رسائی کے لنکس

logo-print

میڈیا کے بدلتے حالات، زوال کا ذمہ دار کون؟


مبصرین کے مطابق کئی میڈیا ہاؤسز کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تین سے چار ماہ کی تاخیر ہو رہی ہے جس سے صحافی اور دیگر اسٹاف ذہنی کرب میں مبتلا ہیں۔ یوں اگر یہ کہا جائے کہ یہ ایک برس صحافیوں کے لیے سب سے مشکل برس رہا تو بے جا نہ ہوگا۔

شبانہ سید نے صحافت میں آج سے 15 برس قبل قدم رکھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں ٹی وی نیوز چینلز کا عروج تھا۔ 'آج نیوز' اور پھر 'جیو نیوز' میں اینکر، پروڈیوسر کے طور پر کام کرنے والی شبانہ نے گزشتہ برس میڈیا کو خیر باد کہہ ڈالا۔

انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کے دوران نئے آنے والوں کو تربیت بھی دی۔ جس میں رپورٹنگ، نیوز رائٹنگ، میزبانی، وائس اوور اور پروڈکشن شامل ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ جب میڈیا کا زوال شروع ہوا تو شبانہ کو محسوس ہوا کہ اب صحیح وقت ہے کہ وہ نوکری چھوڑیں اور ایک نیا کیریئر شروع کریں۔ آج وہ ڈیجیٹل میڈیا اور وائس اوور کی ٹریننگ دے رہی ہیں۔

شبانہ کے مطابق اب وقت بدل گیا ہے اس لیے وہ اپنے طلبہ کو میزبانی، پروڈکشن نہیں سکھا رہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ اگر وہ ایسا کر بھی دیں تو تربیت حاصل کرنے والے جائیں گے کہاں؟ یہاں تو پہلے ہی صحافیوں کے لیے حالات سازگار نہیں۔

اخبار اور پھر نیوز چینلز سے وابستہ ہونے والے صحافی سید خورشید عالم کے مطابق انہوں نے اپنے 35 سالہ کیریئر میں ہر طرح کے حالات دیکھے لیکن جو بے یقینی وہ اس وقت دیکھ رہے ہیں پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

ان کے بقول وہ وقت بھی دیکھا جب مخصوص سیاسی جماعتوں کا اتنا اثر اور دباؤ ہوتا تھا کہ اگر ان کی منشا کے بغیر کوئی خبر چل جاتی تو کیبل سے وہ چینل ہی ہٹا دیا جاتا تھا۔

خورشید عالم کا کہنا تھا کہ کوئی صحافی بڑی خبر لاتا تو اسے یا تو کم کرکے، سوچ سمجھ کر چلایا جاتا یا سرے سے چلایا ہی نہیں جاتا تھا لیکن چند برس میں میڈیا انڈسٹری کے یک دم بدلتے حالات، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور تاخیر، ڈاون سائزنگ کے سبب صحافی اب پہلے سے کہیں زیادہ دباؤ میں ہیں۔

آزاد صحافت اہم کیوں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:35 0:00

انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب اخبارات میں کام کرنے والے صحافی چاہتے تھے کہ وہ کسی طرح نیوز چینلز کا حصہ بن جائیں تاکہ انہیں بھی اچھی تنخواہ مل سکے اور ان کے کیریئر کو آگے بڑھنے میں مدد بھی ملے لیکن اب جب ملک میں چینلز کی بھرمار ہے۔ تو صحافیوں کی برطرفی اور بے روزگاری کے بڑھتے واقعات، چینلز میں مالی بحران نے بتا دیا ہے کہ اب اچھے وقت کی امید رکھنا ٹھیک نہیں۔

خورشید عالم نے بتایا کہ جو لوگ کام کر رہے ہیں وہ بھی اس خوف اور دباؤ کا شکار ہیں کہ آج ان کی نوکری ہے، نہ جانے کل ہوگی یا نہیں۔

میڈیا کے بدلتے حالات اور گزشتہ چند برس میں ہونے والی تبدیلیوں اور پابندیوں کے حوالے سے مبصرین مختلف رائے عائے رکھتے ہیں۔

میڈیا کے زوال کا ذمہ دار کون ہے؟

کل تک جو میڈیا اپنے عروج پر تھا آج وہ کس زوال سے گزر رہا ہے اس کے حوالے سے تجزیہ کار افتخار احمد کا کہنا ہے کہ جب پاکستان میں نیوز چینلز کُھلنے لگے تو ان چینلز کے مالکان کا خیال تھا کہ انہیں حکومت کی جانب سے اشتہارات مل رہے ہیں اور جو بزنس مل رہا ہے وہ اتنا ہی رہے گا۔ یوں وہ یہ چینلز چلاتے رہیں گے۔

ان کے بقول یوں ایک کے بعد دوسرا پھر تیسرا چینل آیا اور پھر یہ تعداد بڑھتی ہی چلی گئی لیکن دیکھنے میں یہ آیا کہ پاکستان میں کوئی بزنس اتنا پھلا پھولا نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بزنس کا یہ کیک چھوٹا ہی رہا لیکن اس کیک میں ہر کسی کو اپنا حصہ ملتا رہا۔

افتخار احمد نے کہا کہ جب یہ چینلز بڑھتے گئے اور منافع میں حصہ کم ہوتا گیا تو اس کا نقصان ملازمین کو ملنا شروع ہوا اور ان کی تنخواہیں روکی جانے لگیں۔ میڈیا مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں جو سرکاری اشتہارات ملنے تھے وہ نہیں ملے اس لیے انہوں نے ملازمین کو فارغ کرنا شروع کر دیا۔ یوں جو اس وقت بے روزگاری ہے وہ اب پورے پورے چینلز بند ہونے تک جا پہنچی ہے۔ یہاں تک کہ لوگوں کو صاف کہا جارہا ہے کہ اگر آپ نے چار یا پانچ ماہ کی تنخواہ لینی ہے اور یہی آپ کی ضد ہے تو بہتر ہے گھر جائیں۔

انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اس میں قصور وار حکومت نہیں میڈیا انڈسٹری اور چینلز مالکان خود ہیں کیوں کہ جب آپ ایک کاروبار شروع کرتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں کتنے ملازم رکھنے ہیں۔ میری پیداواری صلاحیت کتنی ہے۔ میری کوئی حکمت عملی ہونی چاہیے تھی لیکن یہاں ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی چینلز کھلتے گئے۔ نتیجہ آج سب کے سامنے ہے کہ سب سے زیادہ متاثر وہ ملازمین ہوئے جو کام کرنا جانتے تھے۔

سینئر صحافی مظہر عباس کے مطابق دو سے تین چینلز کے بند ہونے، اخبارات کے کئی ایڈیشنز کی بندش، تنخواہوں میں لگنے والے کٹ اور جبری برطرفیوں سے کئی ایسے صحافی اور ملازمین جو بظاہر طبعی موت کا شکار ہوئے لیکن اس کے پیچھے وہ ذہنی دباو تھا جو ان حالات کے سبب وہ جھیل رہے تھے۔

'پہلے گولی ماری جاتی تھی، اب گالی دی جاتی ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:46 0:00

مظہر عباس کے مطابق کئی میڈیا ہاؤسز کی جانب سے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تین سے چار ماہ کی تاخیر ہو رہی ہے جس کے سبب گھر چلانے والے صحافی اور دیگر اسٹاف شدید دباؤ اور ذہنی کرب میں مبتلا ہیں۔ یوں اگر یہ کہا جائے کہ یہ ایک برس صحافیوں کے لیے سب سے مشکل برس رہا تو بے جا نہ ہوگا۔

پاکستانی میڈیا آزاد یا دباؤ کا شکار؟

مظہر عباس کے بقول حکومت کا یہ بیانیہ کہ مغرب کے مقابلے میں پاکستان کا میڈیا زیادہ آزاد ہے وہ اس سے متفق نہیں۔ اس ایک سال میں سب سے زیادہ میڈیا ریگولیشنز لانے کی کوشش کی گئی۔ جو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے۔ پاکستان میں ابھی تک ہتک عزت کے قانون کو بہتر نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سال کے دوران ہی پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپس 'ڈان' اور 'جنگ' کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے نیوز چینلز کو نہ صرف آخری نمبروں پر ڈالا گیا بلکہ 'ڈان' اخبار کی سرکولیشن کو بھی متاثر کیا گیا۔

مظہر عباس کے مطابق یہ دیکھا جا رہا ہے کہ جن چینلز پر آزادانہ رائے ہے۔ جہاں حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھایا جائے۔ ان چینلز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ سب بڑے نیوز چینلز کے خلاف اسی لیے کیا جا رہا ہے کہ تاکہ چھوٹے چینلز اس سے سبق لیں اور وہ نہ کریں جو بڑے چینلز کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'جیو' اور 'جنگ' کے ایڈیٹر انچیف کی گرفتاری بھی اسی دباؤ کو قائم رکھنے کا ایک تسلسل ہے تاکہ کسی نہ کسی طرح سے چینل اور اس کے ایڈیٹوریل بورڈ کو دباؤ میں لایا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک اور تبدیلی جو دیکھنے میں آئی وہ یہ ہے کہ جو صحافی سرکار یا دیگر اداروں کو ناپسند ہو اس کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چل جاتا ہے۔ یہ بھی آزادانہ رائے کو روکنے اور دباؤ میں لانے کا ایک طریقہ ہے۔

افتخار احمد کے مطابق پاکستان کا میڈیا آزاد ہے۔ آپ جو چاہے کہہ سکتے ہیں ماسوائے نظریہ پاکستان، مذہب، عدلیہ اور فوج کے خلاف ایسا کچھ نہیں کہا جا سکتا جن سے ان کی توہین ہو۔ ان موضوعات سے ہٹ کر آپ جو چاہیں بات کریں۔

لنڈی کوتل کی باہمت خاتون صحافی
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:00 0:00

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر پارلیمنٹ، عوامی نمائندوں، وزیر اعظم سب کے خلاف بات کی جا سکتی ہے کیونکہ سارا دباؤ ان ہی پر چلتا ہے۔ اس حوالے سے کوئی قدغن نہیں ہے۔ میرے نزدیک آزادی وہ ہے جو عوام کے مفاد کے لیے استعمال ہو۔ آزادی وہ نہیں جو کسی کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی ایسی خبر چلانا جو کسی ایک فریق پر مبنی ہو اور اسی کو دباؤ میں لانے کے لیے چلائی جائے۔ یہ آزادی صحافت کے زمرے میں نہیں آتا۔ دنیا بھر میں ہتک عزت کے قوانین بہت سخت ہیں ہم یہاں جسے چاہیں برا بھلا کہہ دیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے لیکن مغرب میں اگر ایسا کیا جائے اور ثابت نہ کر پائیں تو عدالتیں جو فیصلے کرتی ہیں وہ انتہائی سخت ہوتے ہیں۔

پاکستان میں صحافت کون کنٹرول کر رہا ہے؟

افتخار احمد کے مطابق صدر ایوب خان سے لے کر اب تک میڈیا کے قوانین ظالمانہ ہی رہے۔ صحافیوں کی جدوجہد جاری رہی اور اسی وجہ سے انیوں نے حق بات کہتے کا راستہ بنایا۔ آج جس طرح سے صحافی نیوز چینلز پر بات کرتے ہیں۔ اخبارات میں لکھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جن خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس آزادی کو حاصل کرنے کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ ایسا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اگر بڑے اداروں کو پابند کر دیں گے تو کچھ نہیں ہوگا اس کی مثالیں ماضی میں موجود ہیں۔ خاص طور پر 'جیو نیوز' پر دباؤ ڈالا گیا، نشریات کی بندش ہوئی لیکن اس کے باوجود 'جیو' نے اپنا رویہ نہیں بدلا۔ اس کا جو رپورٹ کرنے کا طریقہ کار ہے وہ اب بھی جاری ہے۔ جیو پر ڈالے جانے والا دباؤ در حقیقت 'جنگ' اور 'دی نیوز' میں چھپنے والی خبروں کی وجہ سے ہے۔

ان کے مطابق میرا نہیں خیال کہ جو آزادی اب میڈیا کو مل چکی ہے اسے واپس لیا جا سکتا ہے۔ یہ ضرور ہے اسے پابند کرنے اور دباؤ میں لانے کی کوشش کی جاتی رہے گی۔

صحافی کے قتل کے خلاف کراچی میں احتجاج
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:13 0:00

پاکستان صحافیوں کے لیے محفوظ ملک ہے؟

مظہر عباس کے مطابق جب سے میڈیا وسیع ہوتا گیا اور پرنٹ سے ٹی وی کی جانب گیا۔ تو صحافی غیر محفوظ ہوتے گئے کیونکہ نیوز چینلز کے آتے ہی صحافیوں کو ایک نئی پہنچان ملی۔ اب وہ جو خبر دیتے ہیں وہ ان کی شناخت کو نہ صرف ظاہر کرتی ہے کیونکہ اب سب کو معلوم ہوتا کہ خبر کس نے دی ہے۔ اسی بات نے انہیں متاثر بھی کیا۔ نیوز چینلز کے آتے ہی خاص طور پر نائن الیون کے بعد سے صحافیوں ہلاکت میں اضافہ دیکھنے میں ایا ہے۔ ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے حال ہی میں سندھی نیوز چینل کے صحافی عزیز میمن کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں گلا دبا کر مارا گیا ہے۔ یہی نہیں اس برس بھی اس طرح کے اور کئی واقعات ہوئے جو بتاتے ہیں کہ پاکستان میں صحافی کتنے محفوظ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کئی سوشل میڈیا متحرک رہنے والے افراد کو بھی دھمکیاں دینے اور ہراساں کرنے کے واقعات سامنے آئے۔ کئی بلاگرز لاپتہ ہوئے جو بتاتے ہیں کہ حالات کس نہج پر ہیں۔

افتخار احمد کے مطابق ہر صحافی کے قتل کی تفصیلی اور مکمل تحقیقات ہونی چائیے تھی جب کہ اس میں صحافیوں کے انجمنوں کی نمائندگی کے ساتھ، عوامی نمائندوں اور عدلیہ کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے۔ قتل کے وجوہات میں ہمارا سماج بھی شامل ہے کیونکہ ہمارے بہت سے ایسے صحافی بھی قتل ہوئے جو علاقائی اخبار اور چینلز سے بھی وابستہ رہے وہ جاگیردارانہ روئیے کا بھی شکار ہوئے کیونکہ طاقتور سرمایہ دار، جاگیردار نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے خلاف اس کی ناانصافی، دھاندلی، جبر کے خلاف خبر چھپے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ریاست کے اندر بھی کچھ ایسی نادیدہ قوتیں ہیں جو سمجھتی ہیں کہ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ جو ان کے مقاصد ہیں ان کے خلاف آواز اٹھائے۔ ایسا ہوتا رہا ہے اور اس سے نظر نہیں چرائی جاسکتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG