رسائی کے لنکس

پوپ میوزک کے مقابلے یورووژن پر غزہ جنگ کے سائے، کئی مداحوں کا فنکاروں سے بائیکاٹ کا مطالبہ


سوئیڈن میں منگل سے یورو وژن مقابلے کا آغاز ہو چکا ہے۔
سوئیڈن میں منگل سے یورو وژن مقابلے کا آغاز ہو چکا ہے۔

  • یورو وژن پوپ میوزک کا ایک بین الاقوامی مقابلہ ہے جس میں پورے یورپ سے فنکار حصہ لیتے ہیں۔
  • اسرائیلی حکومت نے اپنے شہریوں کو مالمو میں موسیقی کے مقابلے کے دوران کسی بھی ممکنہ حملے میں نشانہ بننے سے متعلق ’ٹھوس تحفظات‘ سے آگاہ کردیا ہے۔
  • منتظمین کی تجویز پر اسرائیل کی نمائندگی کرنے والے فن کار نے نغمے کا ٹائٹل تبدیل کردیا۔

یورپ میں یورو وژن کے نام سے ہونے والے موسیقی کے بین الاقوامی مقابلے کا 68 واں ایڈیشن ہو رہا ہے تاہم پاپ میوزک کے اس میلے پر بھی غزہ جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔

ایونٹ میں کسی ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے اقدمات کیے گئے ہیں اور اسرائیل کی نمائندگی کرنے والے موسیقار کو سات اکتوبر سے متعلق ایک نغمے کا ٹائٹل تبدیل کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

یورو وژن پاپ میوزک کا ایک بین الاقوامی مقابلہ ہے جس میں پورے یورپ سے فنکار حصہ لیتے ہیں۔ اس مقابلے کا مقصد یورپ کی ثقافتی رنگارنگی اور قومی فخر کے احساس کا جشن منانا ہے۔

اس مقابلے کے آغاز 1956 میں دوسری عالمی جنگ کے بعد خطے میں اتحاد کو فروغ دینے لیے کیا گیا تھا۔ ابتدا میں یورو وژن میں یورپ کے سات ممالک شریک ہوتے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ تعداد 40 کے قریب ہو گئی اور اس میں آسٹریلیا اور اسرائیل جیسے غیر یورپی ممالک بھی شریک ہو گئے۔

یورو وژن کا مقابلہ موسیقی کی رنگا رنگی کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے جس میں انتہائی سنجیدہ نغمے بھی شامل ہوتے ہیں اور کئی مرتبہ انتہائی لا اوبالی گانے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ البتہ یورو وژن میں نغموں کی اسٹیج پر پیش کش بہت اہتمام کے ساتھ کی جاتی ہے۔

اس سال کا یورو وژن مقابلہ سوئیڈن کے جنوبی شہر مالمو میں ہورہا ہے۔ منگل سات فروری کو شروع ہونے والا یہ مقابلہ 11 مئی تک جاری رہے گا۔ اس بار یورووژن مقابلے میں 37 ممالک شریک ہو رہے ہیں جن میں سے 26 کے درامیان ہفتے کو فائنل مقابلہ ہو گا۔

یورو وژن مقابلے میں بھی غزہ میں جاری جنگ پر احتجاج کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ سوئیڈن کے شہر مالمو میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جہاں یورو وژن کے لگ بھگ ایک لاکھ مداحوں کی آمد متوقع ہے اور ان کے ساتھ فلسطینی کے حامی ہزاروں مظاہرین ممکنہ طور پر آ سکتے ہیں۔

اسرائیل اس سال کے یورو وژن مقابلوں میں شریک ہورہا ہے۔ غزہ میں جاری جنگ کے خلاف جمعرات اور ہفتے کو مظاہروں کی تیاری کی جا چکی ہے۔

اسرائیلی حکومت نے اپنے شہریوں کو مالمو میں موسیقی کے مقابلے کے دوران کسی بھی مکنہ حملے میں نشانہ بننے سے متعلق ’ٹھوس تحفظات‘ سے آگاہ کردیا ہے۔

’اکتوبر کی بارش‘

یورو وژن کے منتظمین نے اسرائیل کو مقابلے کے لیے بھیجے گئے نغمے کے بول تبدیل کرنے کی تجویز بھی دی تھی۔ اس نغمے کا ٹائٹل ’اکتوبر رین‘ ہے جو بظاہر گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے حوالے سے تھا۔ اس حملے میں 1200 اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے اور حماس نے 250 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

منتظمین کی تجویز پر نغمے کا ٹائٹل تبدیل کرکے ’ہریکین‘ کردیا گیا تھا اور گلو کار ایڈن گولان کو مقابلے میں شامل رکھا گیا۔

یورووژن کے منتظم یورپیئن براڈ کاسٹنگ یونین کے ڈپٹی جنرل ڈائریکٹر جین فلپ ڈی ٹینڈر نے 'اسکائی نیوز' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی مقابلے میں شرکت پر پابندی لگانا ایک سیاسی فیصلہ ہو گا اور اہم ایسے فیصلے نہیں کر سکتے۔

رواں ہفتے جانے والے موسیقی کے اس مقابلے کے لیے پورے سوئیڈن سے پولیس کو طلب کر لیا گیا ہے اور ساتھ ہی ہمسایہ ممالک ڈنمارک اور ناروے سے بھی مدد مانگی گئی ہے۔

گزشتہ برس سوئیڈن میں قرآن نذرِ آتش کرنے کے واقعات کی وجہ سے سیکیورٹی کسی بھی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ہائی الرٹ پر ہے۔ ان واقعات کے یورووژن کے ایونٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

جھنڈوں پر پابندی

یورو وژن کا ماٹو ’یونائیٹڈ بائے میوزک‘ ہے لیکن موسیقی کایہ بین الاقوامی ایونٹ سیاسی اختلاف اور تنازعات کی زد پر آتا رہا ہے۔

رواں ہفتے ہونے والے یورو وژن مقابلے کے وینیو میں شریک ممالک اور رینبو پرائڈ کے پرچم کے علاوہ کوئی اور جھنڈا یا علامت لانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کا مطب ہے کہ مالمو کے اس وینیو میں فلسطینی پرچم لانے سے روک دیا گیا ہے۔

لیکن بعض موسیقار پھر بھی اپنی رائے کے اظہار کے بارے میں پُرعزم ہیں۔ منگل کو ہونے والی ایک پرفارمنس میں شریک سوئیڈش موسیقار ایرک ساڈی نے فلسطینی کاز کی علامت سمجھے جانے والے کوفیہ رومال اپنی کلائی پر باند رکھا تھا۔

بعدازاں یورو وژن کے منتظمین نے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ انہیں افسوس ہے ایرک ساڈی نے ایونٹ کی غیر سیاسی نوعیت پر سمجھوتا کیا۔

ایونٹ میں شریک پرفارمرز کو سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں کی جانب سے بائیکات کے مطالبات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ دباؤ بھی محسوس کر رہے ہیں۔

جرمنی سے تعلق رکھنے والے پرفارمر آئزک کا کہنا ہے کہ یورو وژن کا بائیکاٹ نہ کرنے کی وجہ سے ان پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ غزہ میں جاری نسل کُشی پر راضی ہیں۔

وہ اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ آئزک کا کہنا ہے کہ ہم یہاں موسیقی بنانے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ اس لیے اگر ہم نے لوگوں کو اس طرح خانوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا تو ایک ایک کرکے ہم سب تنہا رہ جائیں گے۔

ایک اور فن کار جو یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کہ حقیقی دنیا کے ایشوز کس طرح یورو وژن کے اتھاد کو متاثر کرتی ہیں وہ منیزا سینگن ہیں۔ انہوں نے 2021 میں اس مقابلے کے لیے روس کی نمائندگی کی تھی۔ یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد روس کو یورو وژن کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔

منیزا نے اپنی پرفارمنس میں جنگ کے خلاف اظہارِ خیال کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں روس میں ان کی پرفارمنسز منسوخ کردی گئی تھیں اور عوامی مقامات پر ان کے میوزک کو بین کردیا گیا تھا۔ یہ گلوکارہ اب بھی روس ہی میں مقیم ہیں لیکن ان کے لیے کوئی کام کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔

منیزا روس کی یورو وژن میں واپسی کے لیے پُر امید ہیں لیکن اس کا جلد امکان نہیں ہے۔

منیزا کا کہنا ہے کہ موسیقی جنگ روک تو نہیں سکتی لیکن لوگوں جذبات کے تار چھیڑتی ہے۔ شاید اگلے نسل میں ایسا ہو لیکن اس وقت تو کوئی کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ میرے خیال میں موسیقی کو سب کو متحد کرنا چاہیے۔

اس خبر کا مواد ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے لیا گیا ہے۔

فورم

XS
SM
MD
LG