رسائی کے لنکس

logo-print

جہاز ڈوبنے کے وقت کی پرفارمنس


Titanic Scene

آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ٹائی ٹینک کا وہ منظر شاید کوئی نہیں بھلا سکتا جب جہاز میں پانی بھر جاتا ہے اور اس کا ڈوبنا یقینی ہوجاتا ہے۔ ہر طرف لوگ جان بچانے کی فکر میں بھاگ دوڑ رہے ہوتے ہیں۔ ان حالات میں تین فنکار سکون سے ایک جانب کھڑے ہوکر وائلن بجاتے رہتے ہیں۔ گویا انھوں نے قسمت کا لکھا قبول کرلیا تھا اور آخری لمحات کو اپنی پرفارمنس سے یادگار بنانا چاہتے تھے۔

کچھ اسی قسم کا منظر لاس اینجلس میں دیکھنے کو ملا جب دو خواتین فنکاروں نے ایک سپر سٹور میں کھڑے ہوکر وائلن بجانا شروع کردیا۔ انھیں دیکھنے والوں کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ اس پرفارمنس کا لطف اٹھائیں یا حالات پر آنسو بہائیں۔

بونی وون ڈائیک اور ایمر کنسیلا شوقیہ نہیں، پیشہ ور کل وقتی فنکار ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے ان کے ذہن میں ٹائی ٹینک جیسے حالات کا خیال آیا۔ انھوں نے اپنی پرفارمنس کے لیے سوپر سٹور کے اس مقام کا انتخاب کیا جو ٹوائلٹ پیپرز کے لیے مخصوص ہے لیکن پینک شاپنگ کی وجہ سے خالی پڑا ہے۔ یہی نہیں، انھوں نے لائف جیکٹس بھی پہنیں اور وہی دھن بجانا شروع کی جو ٹائی ٹینک میں پیش کی گئی ہے۔ یہ دھن 19ویں صدی کی دعا نئیرر مائی گاڈ ٹو دی پر مبنی ہے۔

وون ڈائیک نے اپنی ویڈو یو ٹیوب پر پیش کی جس کے بعد یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ انھوں نے ویڈیو کے ساتھ لکھا کہ موجودہ حالات میں بہت سے موسیقار اور فری لانسر کام سے محروم ہورہے ہیں۔ کانسرٹس اور تقریبات منسوخ کی جارہی ہیں۔ ایک فری لانس فنکار کی حیثیت سے میں ہمت نہیں ہار رہی۔ میں لوگوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ سماجی فاصلے کے اس دور میں میری خدمات سے آگاہ رہیں۔

ٹائی ٹینک کے موسیقار کی طرح وون ڈائیک بھی اپنی ویڈیو کے اختتام پر کہتی ہیں، حضرات! آج شب آپ کے ساتھ فن کا مظاہرہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔

XS
SM
MD
LG