رسائی کے لنکس

logo-print

ملکی تاریخ میں پہلی بار اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات پیر کو


30 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اس مقصد کے لیے پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز اور فوج کے لگ بھگ تیرہ سو اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی تاریخ میں پیر کو منعقد ہو نے والے پہلے بلدیاتی کے لیے سیاسی سرگرمیاں گزشتہ نصف شب ختم ہو گئی۔

جماعتی بنیادیوں پر ہونے والے ان انتخابات میں ملک کی چھوٹی بڑی تمام جماعتوں کے امیدوار حصہ لے رہے جبکہ ایک کثیر تعداد میں امیدوار آزاد حیثت میں بھی ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

پاکستان الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد کی 50 یونین کونسلز کے چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلرز کےچناؤ کے لیے تقریبادو ہزار چار سو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ جبکہ لگ بھگ چھ لاکھ 80 افراد ووٹ دینے کے اہل ہوں گے۔

اسلام آباد کے شہری اور دہی علاقے میں 640 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے جہاں پولنگ صبح سات بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہے گی۔

30 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اس مقصد کے لیے پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز اور فوج کے لگ بھگ تیرہ سو اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔

حکومت نے پیر کو سرکاری دفاتر میں دن دو بجے کے بعد تعطیل کا اعلان کیا ہے تاکہ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے افراد بھی پولنگ کے عمل میں شامل ہوسکیں۔

اسلام آباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں بلدیاتی اداروں کے قیام سے ان کے روزمرہ مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔

اسلام آباد کے شہری علی ذوالفقار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان انتخابات سے مقامی سطح کی سیاسی قیادت کو بھی آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔

" ان سے ہمارے جتنے بھی مسائل ہیں وہ آسانی سے حل ہوں گے جو بھی امیدوار منتخب ہو گا وہ ہم عام لوگوں میں سے ہو گا اور اس سے ہمیں اپنے مسائل کے حل میں مدد ملے گی"۔

دوسری طرف محمد اسد کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں منتخب ہونے والےنمائندے ان کے مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

" اس سے پہلے بھی انتخابات ہوتے رہے ہیں لیکن بلدیاتی سطح کے انتخابات سے منتخب ہونے والی قیادت ہمارے مسائل مقامی سطح پر حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی"۔

ایک اندازے کے مطابق اسلام آباد کی آبادی بیس لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور اس شہر کو پاکستان کی صرف قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی حاصل ہے تاہم پہلی بار ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو مبصرین اس حوالے سے خوش آئند قرار دے رہے ہیں کہ اس سے ملک کے باقی علاقوں کی طرح یہاں کے شہریوں کے روزمرہ مسائل مقامی سطح پر حل کرنے کے لیے مقامی قیادت معاون ہوگی۔

XS
SM
MD
LG