رسائی کے لنکس

logo-print

آج کا ڈرامہ’ تجارت‘ اور دیکھنے والے’ تماش بین‘ بن گئے


پاکستان کے ڈرامہ نگاروں کو گلہ ہے کہ آج کے دور میں پیش ہونے والا ٹی وی ڈرامہ کمرشلزم کا شکار ہو گیا ہے۔ فنکاروں کے پاس ریہرسل تک کا وقت نہیں، 150 ڈرامے بُرے اور صرف پانچ ڈرامے اچھے بھی بن رہے ہیں۔ اب ڈرامے دیکھنے والے تماشا دیکھنے والے بن گئے ہیں۔‘

جب سے پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کی ’بہار ‘آئی ہے بہت کچھ بدل گیا ہے۔ خود ڈرامہ ہی بدل کر رہ گیا ہے۔

ان چینلز کے حوالے سے ایک عام شکایت یہ بھی ہے کہ ان کے آنے سے جہاں ڈراموں کی بھرمار ہوئی وہیں ڈرامہ بھی کمرشل ہوتا چلا گیا۔ آرٹسٹوں کے پاس ریہرسل تک کا وقت نہیں رہ گیا۔

پرانے مصنفوں کو اس بات کا گلہ ہے لیکن بشریٰ انصاری جو خود کئی عشروں سے اداکاری کے شعبوں سے جڑی ہیں، ان کا نظریہ باقی لوگوں کے مقابلے میں زرا مختلف ہے۔ وہ کہتی ہیں :

’ ٹی وی ڈرامے کی بنیاد ادب سے ریڈیو اور ریڈیو سے ٹی وی پر منتقل ہوئی۔ اس وقت صرف لکھنے والوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی بات اچھے سلیقے سے لوگوں تک پہنچائیں مگر اب اس طرف توجہ کم اور کمرشلزم پر زیادہ ہو گئی ہے۔ نئے لکھنے والوں سے میں مایوس نہیں ہوں جہاں کچھ بُرا چل رہا ہے، وہاں بہت کچھ اچھا بھی نظر آ رہا ہے۔ اگر 150 ڈرامے بُرے بن رہے ہیں تو 5 ڈرامے اچھے بھی بن رہے ہیں۔ ہم کمرشلزم کو 100 فیصد بُر انہیں کہہ سکتے بلکہ یہ اچھی بات ہے۔ اس کی بدولٹ آرٹسٹوں کی آمدنی بڑھی ہے۔‘

بشریٰ انصاری نے ان خیالات کا اظہار کراچی میں ہونے والی دسیویں عالمی اردو کانفرنس کے ایک سیشن ’ٹی وی ڈراموں کا سفر ‘ کےدوران کیا جبکہ پاکستان کے مایہ ناز ڈرامہ نگاروں جیسے حسینہ معین، امجد اسلام امجد اور کئی شعبوں کی ’ہرفن مولا ‘بشریٰ انصاری کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستہ رہنے والی اہم شخصیات نے بھی اس سیشن سے خطاب کیا۔ ان شخصیات میں ایوب خاور، اقبال لطیف اور آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ شامل تھے۔

سیشن کے دوران تمام شخصیات نے یہ بات زور دے کر کہی کہ’ ماضی میں ٹی وی پر دکھائے جانے والے ڈراموں میں پاکستان بھر کا کلچر دکھایا جاتا تھاجن سے چاروں صوبوں کی نمائندگی بھی ہوتی تھی۔ اشفاق حسین ،بانو قدسیہ، بجیا اور حسینہ معین اور دیگر تمام بڑے ادیب ڈراما لکھتے تھے جس کا معاشرہ پر اچھا اثر پڑتا تھا۔‘

ایوب خاور نے کہاکہ صفدر میر، اشفاق احمد، بانوقدسیہ، منوبھائی، امجد اسلام امجد اور باقی جتنے بھی بڑے ادیب ہیں انہوں نے جب ڈرامے لکھے تو پورے پاکستان کی منظر کشی کی جس سے معاشرے کو تربیت کا موقع ملا یہاں تک کہ روزمرہ زندگی میں بھی تبدیلی رونما ہوئی۔‘

حسینہ معین نے کہا کہ’ ڈرامے میں بہت زیادہ رومانس نظر آنے لگے تو وہ بے ہنگم ہو جاتا ہے اور بُرا لگتا ہے۔ پاکستان میں ڈرامے کا سفر جب شروع ہوا تو مسافر وہ لوگ تھے جن کو یہ کام نہ صرف آتا تھا بلکہ وہ اس کام کے ماہر تھے اور لکھاری وہ تھے جو ادیب تھے جن کے ادب پر ڈرامے بنے۔ اس وقت جب ڈرامے نشر ہوتے تھے تو سڑکیں سنسان ہو جاتی تھیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ڈرامے کا معاشرے پر اثر اچھا ہو تو وہ خوشبو کی طرح قائم رہتا ہے اگر بُرا ہو تو پوری نسل کو برباد کردیتا ہے۔ آج کل 120چینلز پر 3 سو ڈرامے دکھائے جاتے ہیں جس میں اچھی اور بُری چیزیں دونوں چل رہی ہیں جس کا انجام آپس میں جھگڑے اور خرابیوں کی شکل میں نکل رہا ہے ۔‘

صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ’ پہلے ڈرامہ کمرشلزم کا شکار نہیں تھا اب اسے کمرشلزم سے ہی نقصان پہنچ رہا ہے۔ زمانے کی رفتار تیز ہو گئی ہے، نئی نسل کی سوچ بدل گئی ہے۔جو ادیب پہلے لکھ رہا تھا وہ سماج کو دیکھ کر لکھتا تھا۔ آج کا نوجوان جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک ہے۔‘

اقبال لطیف نے کہاکہ’ پہلے جو ڈرامے بنتے تھے اس میں ہر شخص اپنا ’آؤٹ پٹ‘ دیتا تھا اب یہاں صرف مارکیٹنگ کے حساب سے لکھا اور لکھوایا جارہا ہے ۔‘

امجد اسلام امجد نے کہا کہ جب پی ٹی وی آیا اس وقت بھی تین میڈیم تھے ریڈیو، فلم اور تھیٹر۔ ان میڈیم کے دائرے محدود تھے اس وقت بھی لگتا تھا کہ یہ تینوں میڈیم اکٹھے ہونے چاہئیں تو پی ٹی وی اسکرین پر آپ کو پورا پاکستان نظر آتا تھا۔ ہمارے مسائل ہماری ثقافت ہمارا رقص موسیقی سب نظر آتا تھا جس کا رشتہ ہماری زمین اور اصل سے ہوتا تھا۔جس وقت میں اور میرے ساتھی ڈرامہ لکھتے تھے اس وقت پوری ٹیم ایک ساتھ کام کرتی تھی ڈرامے کی ریہرسل چار پانچ بار کی جاتی تھی لیکن اب ڈرامے دیکھنے والے خود تماشا دیکھنے والے بن گئے ہیں۔‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG