رسائی کے لنکس

یہ کیسی ٹرافی ہے؟


پاکستانی کپتان سرفراز احمد اور آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ ٹرافی کو تھامے ہوئے ہیں۔

کرکٹ کے کچھ دیوانوں نے ٹویٹر پر سوال کیا ہے کہ کیا یہ سیریز ایک بسکٹ کیلئے کھیلی جا رہی ہے؟

دنیائے کرکٹ میں جب بھی کوئی ٹورنمنٹ ہوتا ہے یا کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کے درمیان کوئی سیریز ہوتی ہے تو اُس کیلئے ایک مخصوص ٹرافی تیار کی جاتی ہے جسے کا حصول ہر ٹیم کا متمع نظر ہوتا ہے۔

ان ٹورنمنٹس کیلئے تیار کی جانے والی ٹرافیوں میں روایتی طور پر وکٹوں، بال اور بلے کو نمایاں کیا جاتا رہا ہے۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے کرکٹ میں سپانسرشپ اور پیسے کے عمل دخل نے اہمیت اختیار کرنا شروع کیا تو ہم نے ٹرافیوں کی شکل میں ایسی تبدیلیاں دیکھی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی حالیہ سیریز پاکستان کی 1-0 سے فتح پر ختم ہوئی اور اب دونوں ملکوں کے درمیان متحدہ عرب امارات میں ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز جاری ہے۔ اس ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے تیار کی گئی ٹرافی اس سیریز کی سپانسر ایک بسکٹ تیار کرنے والی کمپنی نے فراہم کی ہے جس پروکٹوں اور گیند کے اوپر بہت بڑے سائز کا بسکٹ آویزاں کیا گیا ہے۔

جس وقت سے اس ٹرافی کی رونمائی ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کے کپتانوں کے ساتھ اس کی تصویر شائع ہوئی ہے، اس ٹرافی کی پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک طویل بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ کرکٹ کے کچھ دیوانوں نے ٹویٹر پر سوال کیا ہے کہ کیا یہ سیریز ایک بسکٹ کیلئے کھیلی جا رہی ہے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹویٹ میں کہا:

’’برائیٹو پاکستان آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کے موقع پر ٹک کپ 2018 پیش کرتا ہے ۔‘‘

کرکٹ کی عالمی تنظیم آئی سی سی کا ٹویٹ بھی دلچسپ تھا:

’’آپ بمقابلہ ٹرافی۔ اُس نے آپ کو بتایا کہ آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہئیے۔‘‘

ایک کرکٹ فین نے طنزیہ انداز میں ٹویٹ کیا:

’’مقابلے کو منسوخ کر دیں کیونکہ کھیل کی تاریخ کی عظیم ترین ٹرافی منظر عام پر آ گئی ہے۔

ایک اور صاحب نے بھی طنزیہ انداز میں لکھا:

یہ تصویر فوٹو شاپ سے تیار نہیں گئی ہے بلکہ یہ حقیقی ٹرافی کی تصویر ہے۔

ایک اور کرکٹ شائق یوں رقم طراز ہوئے:

’’اگر ٹک بسکٹ کمپنی ورلڈ کپ 2019 کو سپانسر کرے تو ٹرافی کی شکل کچھ یوں ہو گی۔‘‘

کرکٹ کی شوقین ایک خاتون نے اپنی مایوسی کا اظہار کچھ یوں کیا:

’’جس نے بھی اس فضول ٹرافی کو ڈیزائن کیا ہے اسے برطرف کر دینا چاہئیے۔‘‘

اس ٹویٹ کے جواب میں کسی نے لکھا کہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ایسی ٹرافی ڈیزائن کرنے والے کو باقاعدہ معاوضہ بھی دیا گیا۔‘‘

ایک اور کرکٹ فین لکھتے ہیں کہ اس ٹرافی سے تو بہتر تھا کہ سب کو کچھ بسکٹ ہی دے دیتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG