رسائی کے لنکس

logo-print

بڑی عمر میں وزن کم کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے: تحقیق


فائل فوٹو

زیادہ وزن کو بہت سی بیماریوں کی وجہ بیان کیا جاتا ہے۔ اس لیے کچھ وزن کم کر لینا ہی عمومی طور پر بہتر سمجھا جاتا ہے۔

اب ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق وزن کم کر لینا اتنا سیدھا سا کام نہیں ہے جو عام طور پر کہا جاتا ہے۔

برطانیہ کے میڈیکل جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق میں وزن کم کرنے سے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں اور قبل از وقت موت کے خدشے کے تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کی رپورٹ کے مطابق تحقیق کاروں نے وزن میں اضافے اور عمر بڑھنے کے ساتھ موت کے تعلق کا مشاہدہ کیا۔

تحقیق کار یہ بھی سامنے لائے کہ درمیانی یا اس سے زیادہ عمر میں وزن کم کرنے سے قبل از وقت موت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر دل کے عوارض لاحق ہوں تو اس سے قبل از وقت موت کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

تحقیق میں شامل چین کی ٹونگ جی میڈیکل کالج کے شعبہ وبائی امراض اور حیاتیاتی شماریات کے پروفیسر آن پین کا کہنا تھا کہ تحقیق میں یہ سامنے آیا کہ کم عمری میں وزن کم کرلینا بہترین ہوتا ہے کیونکہ اس سے قبل از وقت موت کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کم عمری میں وزن کم کرنے سے بعد کی زندگی میں خطرات کم ہو جاتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ افراد جو عمر بھر موٹے رہے ہوتے ہیں اور ان کا جسمانی وزن زیادہ رہا ہوتا ہے ایسے افراد کی قبل از وقت موت کے امکانات کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

تحقیق کار یہ بھی سامنے لائے کہ 20 سال کی عمر کے بعد وزن بڑھنے اور درمیانی عمر تک یہی کیفیت رہنے سے ان افراد کی موت کے امکانات ان لوگوں کے مقابلے میں بڑھ جاتے ہیں جن کا وزن کم یا متوازن ہوتا ہے۔

پروفیسر آن پین کے مطابق عمر کے درمیانی حصے یا اس کے بعد غیر ارادی طور پر وزن کا کم ہونا کسی مرض کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر ذیابطیس یا سرطان کے باعث لوگوں کا وزن تیزی سے کم ہوتا ہے۔

پروفیسر آن پین کا کہنا تھا کہ تحقیق کے بعد پہلا پیغام یہ سامنے آیا ہے کہ کم عمر میں ہی طے کر لیا جائے کہ وزن نہیں بڑھنے دینا جبکہ دوسرا کام یہ ہے کہ اگر وزن زیادہ ہے تو بڑی عمر میں صحت مندانہ طرز زندگی اختیار کریں۔ اس عمر میں وزن کم کرنا ثانوی چیز ہے۔

تحقیق کے دوران 36 ہزار سے زائد افراد کے حوالے سے دستیاب اعداد شمار کی بنیاد پر نتائج اخذ کیے گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG