رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: تھریسا مے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز


انھوں نے وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنی پہلی عوامی تقریر میں وعدہ کیا کہ ’’نئی حکومت کا مشن ورکنگ طبقے کے لیے کام کرنا ہوگا‘‘؛ اور یہ کہ ’’ہم مل کر ایک بہتر برطانیہ کی تعمیر کریں گے جو صرف مراعات یافتہ طبقے کے لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ ہم میں سے ہر ایک کے مفادات کے لیے کام کرے گا‘‘

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے اپنے منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد تھیریسا مے بکنگھم پیلس میں ملکہٴ عالیہ سے ملاقات کے بعد بدھ کو برطانیہ کی وزیر اعظم بن گئی ہیں۔

یورپی یونین سے متعلق ریفرینڈم کے نتائج سے برطانیہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں نئی قیادت کی دوڑ شروع ہوئی اور آخرکار وہ لمحہ آگیا ہےجب حکمران جماعت ٹوری کی نئی منتخب رہنما تھیریسا مے برطانیہ کی 76ویں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوگئی ہیں۔

سابق وزیر داخلہ تھیریسا مے قدامت پسند پارٹی کی پہلی خاتون وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کےبعد برطانیہ کی دوسری خاتون وزیر اعظم ہیں جنھوں نے 1979 سے 1990 تک ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔

وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ کے باہر 59 سالہ برطانیہ کی نئی وزیر اعظم تھیریسا مے نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایک قوم کی حکومت کی قیادت کریں گی۔

انھوں نےوزیر اعظم کی حیثیت سے اپنی پہلی عوامی تقریر میں وعدہ کیا کہ نئی حکومت کا مشن ورکنگ طبقے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ہم مل کر ایک بہتر برطانیہ کی تعمیر کریں گے جو صرف مراعات یافتہ طبقے کے لوگوں کے لیے نہی بلکہ ہم میں سے ہر ایک کے مفادات کے لیے کام کرئے گا۔

تھیریسا مے کا کہنا تھا کہ برطانیہ یورپی یونین کے باہر اپنے لیے ایک مضبوط نئے مثبت کردار کی تعمیر کرئے گا۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ ہمیں عظیم قومی تبدیلی کے وقت کا سامنا ہے۔

انھوں نے اپنے خطاب میں ناانصافی سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ ان کی حکومت کی توجہ ملازمت کرنے والے لوگوں کی مدد پر ہوگی جو 24 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ لیکن ان کی زندگی ایک جدوجہد ہے۔

انھوں نے برطانیہ، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور آئرلینڈ کے مضبوط تعلق کو اجاگر کیا جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ہم نا صرف برطانیہ کی قوموں کے درمیان بلکہ اپنے تمام شہریوں، ہم میں سے ہر شخص چاہے ہم جو بھی ہیں اور جہاں کہیں بھی ہیں، تمام کے درمیان ایک یونین پر یقین رکھتے ہیں۔

تقریر سے پہلے وہ اپنے شوہر فلپ مے کے ساتھ بکنگھم پیلس پہنچیں تھیں جہاں انھوں نے باضابطہ طور پر نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ملکہ برطانیہ کی دعوت قبول کی۔

اس سے قبل ملکہ برطانیہ نے سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا استعفیٰ منظور کیا تھا۔

وزیر اعظم نے آج ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر اپنے الوادعی خطاب میں کہا کہ برطانیہ کا وزیر اعظم ہونا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مسئز مے ایک مضبوط اور مستحکم قیادت فراہم کریں گی۔

مسز مے نے اس ہفتے اچانک کنزرویٹو کی قیادت کا مقابلہ جیت لیا تھا جب ان کے مد مقابل توانائی کی وزیر اینڈریا لیڈسم نے پیر کو قائدانہ انتخاب سے اپنا نام واپس لے لیا تھا جس کے بعد وہ قیادت کے لیے واحد امیدوار تھیں جنھیں پارٹی کی 1922 کمیٹی کی طرف سے منگل کے روز ٹوری کا رہنما منتخب کیا گیا تھا۔

تھریسا مے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم جیمز کیلیگن کے بعد برطانیہ کی تاریخ کی ایک معمر وزیر اعظم ہوں گی۔ جیمز کیلیگن 1976 میں وزرات کا عہدہ سنبھالا تھا جب ان کی عمر 64 سال تھی، جبکہ انچاس سالہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اپنے منصب سے سبکدوش ہونے والے برطانیہ کے سب سے کم عمر وزیر اعظم ہیں۔

XS
SM
MD
LG