رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں کیا کچھ پہلی بار ہوا؟


فائل فوٹو

امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات کئی حوالوں سے مختلف قرار دیے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں۔

ایک جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے اپنی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے قوم سے خطاب کیا ہے۔ تو دوسری جانب ری پبلکن پارٹی کے امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالتی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

ان انتخابات میں کیا کیا منفرد رہا آئیے جائزہ لیتے ہیں۔

معمر ترین صدر

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن 279 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں برتری حاصل کر چکے ہیں۔ امریکہ کے ذرائع ابلاغ کے بیشتر ادارے اُنہیں نومنتخب صدر بھی قرار دے رہے ہیں۔

امریکہ کے 2009 سے 2017 تک نائب صدر رہنے والے جو بائیڈن رواں ماہ 78 برس کے ہونے والے ہیں۔ صدارت سنبھالنے پر وہ امریکہ کی تاریخ میں معمر ترین صدر ہوں گے۔

قبل ازیں صدارت کا عہدہ سنبھالنے والے معمر ترین شخص ڈونلڈ ٹرمپ تھے۔ 2017 میں جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تو اس وقت اُن کی عمر 70 برس سے زائد تھی۔ ان سے قبل رونالڈ ریگن 1981 میں 69 برس 11 ماہ اور ویلم ہنری ہیریسن 1841 میں 65 سال ساڑھے 10 ماہ کی عمر میں صدر بنے تھے۔

امریکہ کی تاریخ کے کم عمر ترین صدر تھیوڈور روز ویلٹ تھے۔ جو 1901 میں 42 سال 10 ماہ کی عمر میں صدر بنے تھے۔ جان ایف کینیڈی 1961 میں 43 برس 8 ماہ اور بل کلنٹن 1993 میں 46 برس 5 ماہ کی عمر میں صدارت کے منصب تک پہنچے تھے۔

پہلی خاتون اور غیر سفید فام صدر

امریکہ کی تاریخ میں 1789 سے 2020 تک 48 نائب صدور نے صدر کی معاونت کی خدمات انجام دی ہیں۔ البتہ دو صدیوں سے زائد کے عرصے میں کبھی بھی کوئی خاتون یا غیر سفید فام شخص اس عہدے پر نہیں رہا۔

حالیہ انتخابات میں جو بائیڈن کے ساتھ ڈیموکریٹک پارٹی کی نائب صدرات کے لیے ایک خاتون کاملا ہیرس سامنے آئیں۔ ان کو جوبائیڈن نے نامزد کیا تھا۔

صدارتی انتخابات 2020 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق کاملا ہیرس نائب صدر کے لیے کامیاب قرار دی جا رہی ہیں۔ ایسے میں 56 سالہ کاملا ہیرس امریکہ کی تاریخ میں پہلی خاتون اور غیر سفید فام نائب صدر ہوں گی جو جنوری میں یہ عہدہ سنبھالیں گی۔

چھپن برس کی کاملا ہیرس کے والد کا تعلق جمیکا سے ہے اور وہ اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں اقتصادیات کے پروفیسر ہیں۔ جب کہ ہیرس کی والدہ بھارت سے امریکہ آئیں اور یہاں کینسر پر تحقیق سے وابستہ رہیں۔

ہیرس جب سات سال کی تھیں تو ان کے والدین کے درمیان علیحدگی ہو گئی تھی جس کے بعد ہیرس کی والدہ نے اُنہیں پالا پوسا اور ان کے بقول وہ کئی جگہوں پر رہائش پذیر رہیں۔

ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والی ہیرس کی بطور نائب صدر نامزدگی کو سیاسی لحاظ سے اہم قرار دیا گیا تھا۔

کاملا ہیرس کی وکٹری اسپیچ
please wait

No media source currently available

0:00 0:12:11 0:00

ریکارڈ ٹرن آؤٹ

امریکہ میں 2020 میں ہونے والے انتخابات میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ رہا۔ رپورٹس کے مطابق 66 فی صد سے زائد رائے دہندگان نے حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔

اس ریکارڈ ٹرن آؤٹ کے نتیجے میں برتری حاصل کرنے والے اور پیچھے رہ جانے والے امیدواروں کے ووٹ بھی ریکارڈ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 2016 کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ 60 فی صد جب کہ 2012 میں 53 فی صد رہا تھا۔

امیدواروں کے ووٹوں کا بھی ریکارڈ

ایک جانب جہاں انتخابات میں ٹرن آؤٹ ریکارڈ رہا ہے تو دوسری جانب دونوں اُمیدواروں نے ریکارڈ ووٹ حاصل کیے ہیں۔

امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کی رپورٹ کے مطابق اب تک گنتی کیے ووٹوں میں برتری حاصل کرنے والے امیدوار جو بائیڈن نے 7 کروڑ 40 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے ہیں تاہم اب بھی ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ اس لیے ممکنہ طور پر ان ووٹوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ براک اوباما نے 2008 کے صدارتی انتخابات میں حاصل کیے تھے جو کہ چھ کروڑ 94 لاکھ سے زائد تھے۔ اس کے بعد سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا اعزاز بھی اوباما کو ہی حاصل تھا انہوں نے 2012 میں چھ کروڑ 59 لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 میں انتخابات میں 6 کروڑ 29 لاکھ سے زائد ووٹ اپنے نام کیے تھے۔ تاہم ان کے پاپولر ووٹوں کی تعداد ان کی حریف اور شکست کھانے والی امیدوار ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں 28 لاکھ کم تھی۔

تاہم اب ڈونلڈ ٹرمپ بھی سات کروڑ 2 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ اگر حتمی نتائج کے مطابق اُنہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو یہ بھی ایک ریکارڈ ہو گا کہ ایک ہارنے والے اُمیدوار کو بھی ریکارڈ ووٹ ملے۔

قبل از وقت ریکارڈ ووٹ

کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ میں انتخابات میں قبل از وقت ووٹ ڈالنے کی شرح میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔

امریکہ میں انتخابات سے قبل 10 کروڑ کے لگ بھگ ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ان میں ذاتی طور پر ڈالے گئے ووٹ اور ٖای میل کے ذریعے بھیجے گئے ووٹ دونوں شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG