رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت میں جوہری تصادم کا خطرہ نہیں: رپورٹ


فائل فوٹو

امریکہ میں قائم ایک تھنک ٹینک 'دی اٹلانٹک کونسل' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کی دو ہمسایہ ایٹمی قوتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری جنگ کا خطرہ نہیں ہے۔

اس تنظیم نے چین، بھارت اور پاکستان کے دارالحکومتوں میں متعدد سیمینارز منعقد کرنے کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کی جس میں اس کے بقول جنوبی ایشیا کے امور کے ماہرین کے خیال میں نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود خطے میں جوہری تصادم کا زیادہ خطرہ نہیں۔

اس کی وجہ کے طور پر بھارت، پاکستان اور چین بین الاقوامی تناظر میں معاشی نظام استوار کرنے کے لیے پرعزم ہونا بتایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ حقائق کو پیش نظر رکھا جائے تو جوہری جنگ کا خطرہ تو فی الوقت دکھائی نہیں دیتا لیکن تباہ کن لڑائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

حال ہی میں پاکستان کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل زبیر محمود حیات نے کہا تھا کہ خطے میں پائے جانے والے تنازعات خصوصاً کشمیر کا مسئلہ بڑے تنازعات اور جوہری تصادم کا باعث بن سکتے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر اے ایچ نیئر کے خیال میں یہ رپورٹ امید افزا ہے لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تصادم سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں میں یہ تاثر قوی نہ کہ اس کی وجہ دونوں کے پاس جوہری ہتھیاروں کا موجود ہونا ہے۔

"کسی صورت یہ تاثر پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ جوہری ہتھیاروں نے امن قائم کر دیا اور اب ان کے درمیان بڑے پیمانے پر جوہری ہتھیاروں کے ساتھ جنگ نہیں ہو سکتی، اس کے امکانات ختم نہیں ہوئے وقت کے ساتھ کم اور بیش ہوتے رہے ہیں لہذا اگر یہ تاثر پیدا ہوا تو یہ غلط ثاثر ہوگا۔"

'دی اٹلانٹک کونسل' کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دو مخصوص خطرات کا تذکرہ کیا گیا جس میں پاکستان کی طرف سے چھوٹے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی موجودگی اور بھارت کی طرف سے بیلسٹک میزائل دفاعی نظام اور ملٹی پل ری انٹری وہیکل ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری شامل ہیں۔

دونوں ملک اپنے تنازعات کو پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش کا اظہار تو کرتے آ رہے ہیں لیکن ان کے مابین گفت و شنید کے لیے موضوعات کی ترتیب میں اختلاف اور تحفظات کے علاوہ ایک دوسرے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے عائد کیے جانے والے الزامات سے پیدا ہونے والی عدم اعتماد کی فضا میں مذاکرات مسقبل قریب میں رونما ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG