رسائی کے لنکس

پی ایس ایل کا میدان سج گیا


پی ایس ایل 2017 کا فائنل پشاور زلمی نے ڈیرن سیمی کی کپتانی میں جیتا تھا۔ فائل فوٹو

جمعرات سے شارجہ اور دبئی میں شروع ہونے والے پاکستان سوپر لیگ یعنی پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ پیر کے روز لیگ کی ٹرافی کی رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں تما م کی تمام چھ ٹیموں کے کپتانوں نے حصہ لیا۔

گزشتہ دنوں یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ چھ میں سے کچھ فرینچائزز نے اپنے حصے کے واجبات ادا نہیں کئے جن کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس لیگ کے انعقاد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ تاہم پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے تصدیق کر دی ہے کہ تمام فرینچائزز نے بالآخر اپنے اپنے واجبات ادا کر دیے ہیں اور یہ مسئلہ بخوبی حل کر لیا گیا ہے۔

پی ایس ایل ۔ 3 کی افتتاحی تقریب جمعرات 22 فروری کو دوبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہو رہی ہے جس میں بہت سے نمایاں فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ ممتاز گلوکارہ عابدہ پروین اپنے صوفیانہ گیتوں کا میڈلے پیش کریں گی۔ امریکی گلوکار، نغمہ نگار اور رقاص جیسن ڈیرولو اپنے مخصوص انداز میں حاضرین اور ناظرین کو لبھائیں گے۔ مشہور پاکستانی گلوکار اور اداکار علی ظفر پی ایس ایل کیلئے گائے گئے پر جوش نغمات پیش کریں گے جن میں اُن کا مشہور گیت ’’دل سے جان لگا دو‘‘ بھی شامل ہے۔ پاپ اسٹار شہزاد روئے بھی ایکشن میں نظر آئیں گے۔

اس رنگا رنگ افتتاحی تقریب کی میزبانی فلم اسٹار حریم فاروق اور بلال اشرف کے سپرد ہے اور اطلاعات کے مطابق ان دونوں نے اس کی بھرپور تیاری کر رکھی ہے۔ اس تقریب میں آتش بازی کا شاندار مظاہرہ بھی رونق کو دوبالا کرے گا۔

پی ایس ایل کی یہ افتتاحی تقریب مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے شروع ہو گی جس کے فوراً بعد رات 10 بجے لیگ کے پہلے میچ میں گزشتہ لیگ کی فاتح ٹیم پشاور زلمی اور پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن میں شامل ہونے والی نئی ٹیم ملتان سلطان آمنے سامنے ہوں گی۔

لیگ کے بیشتر میچ دبئی اور شارجہ میں کھیلے جائیں گے جبکہ دونوں سیمی فائنل لاہور میں اور فائنل میچ کراچی میں ہو گا۔

پی ایس ایل کے اس تیسرے ایڈیشن میں شامل ٹیموں کا ایک مختصر جائزہ:

اسلام آباد یونائیٹڈ:

اسلام آباد یونائیٹڈ 2016 میں ہونے والے پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن کی فاتح ٹیم تھی۔ تاہم 2017 میں کھیلے جانے والے دوسرے ایڈیشن کے دوران اس کے دو اہم کھلاڑی شرجیل خان اور خالد لطیف سپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی زد میں آ گئے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی کھلاڑی آندرے رسل بھی ڈوپنگ ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے بعد ایک سال کی پابندی لگنے کی وجہ سے دستیاب نہیں تھے۔ ان نقصانات کے باوجود یہ ٹیم کل آٹھ میں سے چار میچ جیتنے میں کامیاب ہو گئی لیکن پھر پلے آف مرحلے پر کراچی کنگز سے شکست کھا کر یہ لیگ سے باہر ہو گئی تھی۔

تیسرے ایڈیشن میں رسل دستیاب ہو گئے ہیں جن سے اسلام آباد یونائیٹڈ کا مڈل آرڈر اب کافی مضبوط دکھائی دینے لگا ہے۔ تاہم اوپننگ کھلاڑیوں میں شرجیل کے نہ ہونے کے باعث اسے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی کپتانی تجربہ کار کرکٹر مصباح الحق کر رہے ہیں جبکہ رومان رئیس کو نائب کپتان مقرر کر دیا گیا ہے۔ مصباح کا بین الاقوامی کریئر شاندار رہا ہے تاہم وہ اب 43 برس کے ہو چکے ہیں اور بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد اُنہیں زیادہ کرکٹ کھیلنے کا موقع بھی نہیں ملا ہے۔ لہذا یہ دیکھنا ہو گا کہ اس لیگ کے دوران اُن کی فارم کیسی رہتی ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے ہیڈ کوچ ڈین جونز ہیں جبکہ ڈائریکٹر اور بالنگ کوچ وقار یونس ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے: صاحبزادہ فرحان، ایلکس ہیلز، آصف علی، جے پی ڈیومینی، افتخار احمد، عماد بٹ، آندرے رسل، فہیم اشرف، شاداب خان، حسین طلعت، سمیت پاٹل، ڈیوڈ ویلے، سام بلنگز، لیوک رونچی، محمد حسن، روحیل نظیر، چڈوک والٹن، محمد سمیع، رومان رئیس، اسٹیون فن، سیموئل بدری، ظفر گوہر اور محمد حسنین۔

کراچی کنگز:

کراچی کنگز اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اس میں محمد، عامر، کرس گیل، کمار سنگاکارا، روی بوپارا، پولارڈ، سہیل خان اور عماد وسیم جیسے اسٹار کھلاڑی شامل ہیں۔

کراچی کنگز کی کارکردگی پہلے ایڈیشن کے دوران قابل رشک نہیں تھی اور وہ اپنے آٹھ میچوں میں سے صرف دو میچوں میں ہی فتح حاصل کر پائی تھی۔ بار بار میچ ہارنے کے دوران ٹیم کی کپتانی میں بھی متعدد بار تبدیلی کی گئی۔ اس کے باوجود یہ ٹیم 2016 میں کل پانچ ٹیموں میں سے چوتھے نمبر پر رہی۔

2017 میں دوسرے ایڈیشن کے دوران کراچی کنگز کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی اور لیگ کے اختتام پر اس کی پوزیشن تیسری رہی۔

کراچی کینگز کے کوچ مکی آرتھر اور کپتان عماد وسیم ہیں جبکہ باقی کھلاڑیوں میں اوئن مورگن، لینڈل سمنز، بابر اعظم، خرم منظور، کولن انگرم، جو ڈیلنی، شاہد آفریدی، روی بھوپارا، حسن محسن، ڈیوڈ وائزے، محمد طاحا، محمد رضوان، سیف اللہ بنگش، محمد عامر، اسامہ میر، عثمان خان، محمد عرفان، تابش خان اور ٹائمل ملز شامل ہیں۔

پشاور زلمی:

پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی اور دیگر کھلاڑی فتح کا جشن منا رہے ہیں۔ فائل فوٹو
پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی اور دیگر کھلاڑی فتح کا جشن منا رہے ہیں۔ فائل فوٹو

​پی ایس ایل کے 2016 میں آغاز کے وقت سے پشاور زلمی کی کارکردگی شاندار رہی ہے اور یہ 2017 کے سیزن کی فاتح ٹیم ہے۔ ٹیم کے کپتان ویسٹ انڈین کھلاڑی ڈیرن سیمی 2017 کا فائنل کھیلنے کیلئے پاکستان آئے جبکہ لیگ کے فائنل میں پہنچنے والی دوسری ٹیم کوئٹہ گلیڈئیٹرز کے غیر ملکی کھلاڑیوں نے لاہور نہ آنے کا فیصلہ کیا۔

اس مرتبہ پشاور زلمی کو ڈوائن براوو کی خدمات بھی دستیاب ہوں گی۔ تاہم اس مرتبہ پشاور زلمی کیلئے شاہد آفریدی دستیاب نہیں ہو گے کیونکہ وہ پشاور زلمی کو چھوڑ کر کراچی کنگز کا حصہ بن چکے ہیں۔

پشاور زلمی کے ہیڈ کوچ محمد اکرم اور مینٹور یونس خان ہیں جبکہ ویسٹ انڈین کھلاڑی ڈیرن سیمی اس بار بھی ٹیم کی قیادت کریں گے۔ باقی کھلاڑیوں میں محمد حفیظ، وہاب ریاض، کامران اکمل، حسن علی، حارث سہیل، کرس جورڈن، ڈوائن براوو، تمیم اقبال، حماد اعظم، محمد اصغر، سعد نسیم، تیمور سلطان، ثمین گل، ابتسام شیخ، آندرے فلیچر، رکی ویسلز، خالد عثمان، محمد عارف، خوشدل شاہ، لیام ڈوسن اور عمید آصف شامل ہیں۔

لاہور قلندرز:

لاہور قلندرز پہلے دونوں ایڈیشنز میں آخری نمبر پر رہی تھی۔ تاہم اس بار اسے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرنے والے فخر زمان، آسٹریلیا کے کرس لِن اور کپتان برینڈن میکلم سے اُمیدیں ہیں کہ وہ اس ٹیم کو کامیابی کی طرف لے جائیں گے۔ تاہم اس ٹیم کو اُس وقت ایک دھچکہ لگا جب سری لنکن کرکٹ بوردڈ نے اینجلو میتھیوز کو اس لیگ میں کھیلنے کیلئے این او سی جاری نہیں کیا۔ اُن کی جگہ ٹیم میں نیوزی لینڈ کے ڈیوسچ کو شامل کیا گیا ہے۔

لاہور قلندر کے کوچ جنوبی افریقہ کے پیڈی اپٹون ہیں جبکہ اسے شعیب اختر، انظمام الحق اور عاقب جاوید کی خدمات بھی حاصل ہوں گی۔ شعیب اختر ٹیم کے مینٹور ہوں گے جبکہ عاقب جاوید ٹیم کے ڈائرکٹر اور انظمام ایڈوائزر کی حیثیت سے ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ لاہور قلندرز ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:

برینڈن میکلم، اظہر علی، سنیل نرائن، عمر اکمل، سہیل تنویر، یاسر شاہ، گرانٹ ایلیٹ، محمد رضوان، کیمرون ڈیلپورٹ، بلاول بھٹی، عامر یامین، ظفر گوہر، فخر زمان، غلام مدثر، عثمان قادر، محمد عرفان، سیف بدر، کرسٹوفر گرین، جیسن روئے اور جیمز فرینکلن۔

کوئٹہ گلیڈئیٹرز:

کوئٹہ گلیڈئیٹرز کی ٹیم پی ایس ایل کے دونوں ایڈیشنز میں فائل تک پہنچی لیکن ٹرافی اس کا مقدر نہ بن سکی۔ اس ٹیم کی قیادت ایک بار پھر پاکستان ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کر رہے ہیں۔

کوئٹہ گلیڈئیٹرز کے اہم ترین غیر ملکی کھلاڑی کیون پیٹرسن ہیں۔ تاہم اُنہوں نے اس بار بھی پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ گلیڈئیٹرز کو کارلوس بریتھ ویٹ کی ورلڈ کوالیفائر کے باعث عدم دستیابی کی وجہ سے بھی بڑا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ اس ٹیم کو اس بار شین واٹسن کی خدمات حاصل ہوں گی جو پہلے دونوں سیزن میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائیندگی کر چکے ہیں۔

کوئٹہ گلیڈئیٹرز کے بالنگ اٹیک میں افغانستان کے مشہور اسپنر راشد خان بھی دو میچوں میں حصہ لیں گے۔

ٹیم کے ہیڈ کوچ معین خان ہیں جبکہ اُن کے ساتھ عبدالرزاق اسسٹنٹ کوچ ہوں گے۔

کوئٹہ گلیڈئیٹرز ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:

سرفراز احمد، کیون پیٹرسن، روسو، جیسن روئے، اسد شفیق، محمد نواز، شین واٹسن، محموداللہ، جان ہیسٹنگز، انور علی، عمر امین، راشد خان، راحت علی، بین لاغنن، سعود شکیل، سعد علی، جوفرا آرکرمحمد اعظم خان، فراز احمد، حسن خان، میر حمزہ اور کرس گرین۔

ملتان سلطان:

ملتان سلطان اس تیسرے سیزن میں شامل ہونے والی چھٹی اور نئی ٹیم ہے۔ پہلے دونوں سیزن میں پانچ ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔ ماضی کے عظیم بالر اور پاکستان ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم اسلام آباد یونائیٹڈ کو چھوڑ کر ملتان سلطان سے منسلک ہو گئے ہیں۔ وہ ٹیم کے ڈائریکٹر اور بالنگ کوچ ہوں گے جبکہ ہیڈ کوچ ٹام موڈی اور بیٹنگ کوچ محمد وسیم ہوں گے۔

اس ٹیم کے کپتان شعیب ملک ہیں جبکہ یہ ٹیم کمار سنگاکارا، کیرون پولارڈ، ڈیرن براوو اور عمران طاہر کی خدمات حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئی ہے۔ چونکہ یہ ٹیم نئی ہے اور پہلی بار پی ایس ایل میں حصہ لے رہی ہے، یہ دیکھنا ہو گا کہ لیگ میں اس کی کارکردگی کیسی رہتی ہے ۔

ملتان سلطان میں احمد شہزاد، صہیب مقصود، عبداللہ شفیق، ڈیرن براوو، سیف بدر، عمر صدیق، شان مسعود، کمار سنگاکارا، نکولس پورن، عمر گل، محمد عرفان، جنید خان، عمران طاہر، عرفان خان، محمد عباس، ہردوس ولجوئن اور تھسارا پریرا شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG