رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی آپریشن کا نیا مرحلہ، گھر گھر تلاشی متوقع


بتایا جاتا ہے کہ آپریشن کا تیسرا اور سخت ترین مرحلہ جلد شروع ہونے والا ہے۔ شہر کے حساس علاقوں لیاری، اورنگی ٹاوٴن، سہراب گوٹھ، منگھو پیر، لانڈھی، ملیر کورنگی، شاہ فیصل کالونی اور فیڈرل بی ایریا میں جلد آپریشن متوقع ہے

کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف پچھلے سات ماہ سے رینجرز کا ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے۔ لیکن، اس کے خاطرخواہ نتائج ابھی تک برآمد نہیں ہوسکے۔ لہذا، اب یہ آپریشن ایک نئے مرحلے میں داخلہ ہونے والا ہے، جس کی گونج ابھی سے سنائی دینے لگی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، نئے مرحلے کے تحت، حساس علاقوں کا محاصرہ کرکے گھر گھر چھاپے مارے جائیں گے۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پہلے ہی اس مرحلے کی منظوری دے چکے ہیں۔ وزیراعظم نے رواں ہفتے کراچی کا دورہ کی اور گورنر ہاوٴس میں کراچی کے امن و امان کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کی ۔ اسی اجلاس میں حساس علاقوں میں واقع گھرگھر تلاشی لینے ، ناجائز اسلحہ قبضے میں لینے اور مجرموں کو حراست میں لینے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل شاہد حیات اور حساس اداروں کے حکام نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر ڈسٹرکٹ پولیس افسر اپنے علاقے کی پولیس کو مطلوب جرائم پیشہ افراد کی مکمل معلومات فراہم کرے گا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے اجلاس کے حوالے سے مکمل تفصیلات سامنے آچکی ہیں۔ روز نامہ جنگ، ایکسپریس، ڈان اور ٹریبون سمیت تمام نجی ٹی وی چینلز نے رینجرز کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ آپریشن کا تیسرا اور سخت ترین مرحلہ جلد شروع ہونے والا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں شہر کے حساس علاقوں کے نام بھی شائع ہوئے جہاں آپریشن متوقع ہے ۔ ان علاقوں میں لیاری،اورنگی ٹاوٴن، سہراب گوٹھ،منگھوپیر، لانڈھی، ملیر کورنگی، شاہ فیصل کالونی اور فیڈرل بی ایریا شامل ہیں ۔

ایک پولیس افسر نے حکومتی موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی خاص علاقے، گروپ یا پارٹی کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ آپریشن صرف ان عناصر کے خلاف ہوگا جو بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔

آپریشن کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی میڈیا میں گردش کررہی ہیں کہ وزیراعظم مختلف سیاسی جماعتوں اور گروپس کو پہلے ہی آپریشن کے حوالے سے اعتماد میں لے چکے ہیں کیوں کہ ماضی میں کچھ جماعتوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا جاچکا ہے۔ اس حوالے سے میاں نواز شریف ایک کمیٹی بھی تشکیل دے چکے ہیں۔ اس کمیٹی میں سندھ کے گورنر، وزیراعلیٰ، ڈی جی رینجرز اورآئی جی پولیس شامل ہیں۔

جماعتوں کا تعاون
سیاسی جماعتوں کے رہنماوٴں نے گھر گھر تلاشی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما عبدالمالک نے تو یہاں تک یقین دلایا ہے کہ ان کی پارٹی، آپریشن کے خلاف کبھی احتجاج نہیں کرے گی، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما واسع جلیل کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی آپریشن کے حق میں ہے لیکن جعلی چھاپے اورکارکنوں کی گرفتاریاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔

سات ماہ سے جاری آپریشن کے اعداد و شمار
شہر میں رینجرز کا جرائم پیشہ عناصرکے خلاف آپریشن 7ماہ سے جاری ہے جس میں 2 ہزار 295 ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔

ترجمان سندھ رینجرزکی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیے کے مطابق 5 ستمبر2013 کو شروع ہونے والے آپریشن کے دوران رینجرزنے 2ہزار 370چھاپہ مار کارروائیوں کے نتیجے میں 2ہزار 295ملزمان کوحراست میں لے لیا۔

ترجمان کے مطابق حراست میں لیے جانے والے ملزمان میں 12دہشت گرد، 142 ٹارگٹ کلرز، 102 بھتہ خوراور 27 اغوا کار تھے۔

ترجمان کا کہنا ہے ملزمان کے قبضے سے مختلف اقسام کے ہتھیار بھی برآمد کئے گئے ہیں جن کی تعداد 4 ہزار 102 ہے۔ ان میں مشین گنز، ایل ایم جیز، آر پی جی، لانچر، ایس ایم جیز، ایم 16، گرینیڈ، ہینڈگرینیڈ اورایک لاکھ 71 ہزار 666 گولیاں شامل ہیں۔

ترجمان میڈیا کو جاری معلومات میں بتایاکہ رینجرزکے ساتھ ہونے والے 82مقابلوں میں 115 ملزمان ہلاک جبکہ 102 گرفتار کئے جاچکے ہیں جبکہ آپریشن کے دوران رینجرز کے 8 اہلکار شہید اور 32 زخمی ہوئے۔
XS
SM
MD
LG