رسائی کے لنکس

افغانستان: امریکہ کے فضائی حملوں میں 35 طالبان ہلاک


افغان سکیورٹی فورسز ایک شاہراہ پر گشت کر رہی ہیں (فائل فوٹو)

ترجمان نے بتایا ہے کہ فضائی حملوں کا ہدف ارزنکار نامی ایک مقامی گاؤں تھا جہاں حملوں کے فوری بعد افغان فوج کے زمینی دستوں نے کارروائی کی اور گاؤں کو طالبان سے آزاد کرالیا۔

افغانستان کے شمالی صوبے بلخ میں امریکی فوج کے فضائی حملوں میں مبینہ طور پر 35 طالبان جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغان نیشنل آرمی کے ایک افسر نے مقامی نشریاتی ادارے 'طلوع نیوز' کو بتایا ہے کہ حملے بلخ کے ضلع چاربولک میں ہفتے کو کیے گئے۔

بلخ میں تعینات افغان فوج کے ترجمان محمد حنیف رضائی کے مطابق 40 منٹ تک جاری رہنے والے ان فضائی حملوں کا مقصد برسرِ زمین موجود افغان کمانڈوز کی معاونت کرنا تھا۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ فضائی حملوں کا ہدف ارزنکار نامی ایک مقامی گاؤں تھا جہاں حملوں کے فوری بعد افغان فوج کے زمینی دستوں نے کارروائی کی اور گاؤں کو طالبان سے آزاد کرالیا۔

افغان فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی کارروائی میں کم از کم 35 جنگجو ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے جب کہ ان کے درجنوں ہتھیاروں کو تباہ کردیا گیا۔

افغان فوج نے ایک ہفتہ قبل طالبان کے زیرِ قبضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے چاربولک میں آپریشن شروع کیا تھا جو تاحال جاری ہے۔

حکام کا کہناہے کہ صوبہ بلخ کے گورنر محمد اسحاق راہ گزر اور سابق گورنر عطا محمد نور خود اس کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔

افغانستان میں تعینات امریکی فوج نے ہفتے کو کیے جانے والے فضائی حملوں اور ان میں ہونے والے جانی نقصان سے متعلق تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس بارے میں طالبان کا موقف سامنے آیا ہے۔

ہلمند میں خود کش حملہ

دریں اثنا افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں ایک فوجی اڈے پر کیے جانے والے خود کش حملے میں چھ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

حملہ ہلمند کے ضلعے نادِ علی میں ہفتے کو کیا گیا۔ حکام کے مطابق حملہ آور بارود سے بھری اپنی گاڑی فوجی اڈے کے اندر لے جانا چاہتا تھا لیکن محافظوں کے فائرنگ کے باعث اس نے اڈے کے مرکزی دروازے پر گاڑی کو دھماکے سے اڑادیا۔

دھماکے سے ہلاک ہونے والے افغان نیشنل آرمی کے دو اہلکار اور چار عام شہری شامل ہیں جب کہ زخمیوں میں بھی دو فوجی اہلکار شامل ہیں۔

ہفتے کو جلال آباد شہر میں بھی ایک بم دھماکہ ہوا ہے جس میں 12 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اس سے قبل جمعے کی شب طالبان جنگجووں نے صوبہ ننگر ہار کے ضلعے گوشتہ میں ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں پانچ اہلکار مارے گئے تھے۔

یاد رہے کہ طالبان نے رواں ہفتے ہی ملک بھر میں سرکاری اور غیر ملکی تنصیبات پر حملوں کے اپنے نئے سالانہ منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

افغانستان میں ہر سال موسمِ سرما کے جاتے ہی طالبان کے حملوں میں شدت آجاتی ہے۔ گرم موسم کے باعث پہاڑوں پر برف پگھلنے سے پہاڑی راستے اور درے کھل جاتے ہیں جس کی وجہ سے طالبان جنگجووں کو نقل و حرکت اور گوریلا کارروائیوں میں آسانی ہوتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG