رسائی کے لنکس

logo-print

گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کرانے والے ڈچ سیاست دان کے سر کی قیمت مقرر


گستانہ خاکوں کے مقابلے خلاف اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک ریلی۔ فائل فوٹو

ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک رٹے نے خاکوں کے اس مقابلے کو ’گستاخانہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے تاہم اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کا پاکستانی مطالبہ مسترد کر دیا ہے کہ ہالینڈ آزادی اظہار میں یقین رکھتا ہے۔

پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا اہتمام کرنے والے سیاستدان گیرٹ ولڈرز کو قتل کرنے والے کیلئے 24,000 ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

گیرٹ ولڈرز نے خاکوں کے مقابلے کا اعلان 12 جون کو کیا تھا۔

نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستانی کرکٹر خالد لطیف کی طرف سے گیرٹ ولڈرز کے سر کی قیمت مقرر کرنے کے بعد ہالینڈ یا پاکستان میں موجود مغربی ممالک کے اہداف کیلئے انتہا پسند مذہبی گروپوں کی طرف سے پر تشدد کارروائیوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

اس سے قبل 2015 میں القاعدہ سے وفاداری کا اعلان کرنے والے دو فرانسیسی عسکریت پسندوں نے پیغمبر اسلام کے کارٹون شائع کرنے پر جریدے ’چارلی ہیبکوز ‘ کے دفاتر میں موجود 12 افراد کو قتل کر دیا تھا۔

اس ماہ کے شروع میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی اہل کاروں نے ہزاروں مظاہرین کو ہالینڈ کے سفارتخانے کی طرف بڑھنے اور اس پر پتھراؤ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہالینڈ میں مجوزہ کارٹونوں کا مقابلہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کے مترادف ہے اور ہالینڈ کی حکومت فوری طور پر اس پر پابندی عائد کرے۔

ہالینڈ کے سیاستدان گیرٹ ولڈرز کے سر پر انعامی رقم مقرر کرنے والے کرکٹر خالد لطیف پر گزشتہ برس سپاٹ فکسنگ کے جرم میں پانچ سال کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ خالد لطیف نے انعامی رقم کا اعلان فیس بک کے ذریعے کیا۔

ولڈرز کا کہنا ہے کہ اس کارٹون مقابلے میں شرکت کیلئے 200 سے زائد اینٹریز موصول ہو چکی ہیں اور اس مقابلے کے جج سابق امریکی مسلمان کارٹونسٹ باش فوسٹین ہوں گے۔

اس مقابلے کا جج چونکہ ایک امریکی شخص ہے، اس لئے پاکستان کی اسلامی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو بھی مورد الزام ٹھہرانا چاہئیے۔ مثال کے طور پر پاکستان کی ایک مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان یعنی ٹی ایل پی نے ہالینڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے خلاف بھی سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم اور سابق کرکٹر عمران خان نے سینیٹ میں اپنے پہلے خطاب کے دوران اس بارے میں پائے جانے والے غم و غصے کا ادراک کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اُٹھائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں اس درد کو نہیں سمجھا جاتا جس کا سامنا ایسے گستاخانہ اقدامات سے مسلمانوں کو ہوتا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی آج سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار کے ہم سب قائل ہیں۔ لیکن اس کی کچھ حدودو قیود ہوتی ہیں جنہیں پامال نہیں کیا جس سکتا۔

اُنہوں نے کہا کہ یہودیوں کے خلاف ہولوکاسٹ کے دوران ہونے والے ظلم و ستم کے بارے میں بھی مغربی دنیا میں سخت غم و غصے کا اظہار کیا جاتا ہے اور یورپی ممالک نے اس بارے میں قانون سازی کی ہے تو اسی طرح پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ خاکوں پر بھی پابندی عائد کی جانی چاہئیے جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس بارے میں پوری پاکستانی قوم متحد ہے اور حکومت یہ مسئلہ ہر فورم پر اُٹھائے گی۔

ولڈرز کی سیاسی جماعت ڈچ پارٹی فار فریڈم ہالینڈ کی پارلیمان میں دوسری سب سے بڑی جماعت ہے اور یہ ہالینڈ میں مسلمانوں کی امیگریشن کی سختی سے مخالفت کرتی آئی ہے۔ ولڈرز نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا ہے کہ اسے ہالینڈ کی انسداد دہشت گردی ایجنسی کی طرف سے پارلیمانی دفاتر میں یہ مقابلے منعقد کرانے کیلئے سیکورٹی کلیئرنس مل چکی ہے۔

ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک رٹے نے خاکوں کے اس مقابلے کو ’گستاخانہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے تاہم اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کا پاکستانی مطالبہ مسترد کر دیا ہے کہ ہالینڈ آزادی اظہار میں یقین رکھتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG