رسائی کے لنکس

logo-print

تین مظلوم مسیحا


تین حقیقی کرداروں پر بننے والی ایک نفسیاتی فلم کا ایک مںظر

ڈاکٹر مارٹن روکیاک نے دوسری جنگ عظیم کے بعد نفسیات میں پی ایچ ڈی مکمل کی اور مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھاتے رہے۔ 1959 میں وہ مشی گن یونیورسٹی میں اچھی بھلی ملازمت چھوڑ کر اپسلانٹی کے سرکاری اسپتال چلے گئے جہاں ذہنی مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ وہاں انھیں تین ایسے مریض ملے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ مسیحا ہیں۔

دنیا کو ایک مسیحا نہیں مل رہا اور ڈاکٹر روکیاک کو اکٹھے تین ایک ساتھ مل گئے تھے۔

اپسلانٹی اسپتال میں تحقیق کا کوئی کام نہیں تھا۔ ذہنی مریضوں کا ویسے ہی علاج کیا جاتا تھا جیسا اس وقت رائج تھا۔ جو مریض شور مچاتا یا غصہ کرتا، اسے بجلی کے جھٹکے دیے جاتے۔ مریضوں کے دکھڑے سننے کی کسی کو فرصت نہیں تھی۔

ڈاکير روکیاک نے مسیحا ہونے کے دعوے دار تینوں مریضوں کو ایک کمرے میں جمع کیا اور ہمدردی سے ان کے ساتھ گفتگو کی۔ ایک بار نہیں، بار بار۔ انھوں نے جلد مریضوں کے رویے میں تبدیلی آتے دیکھی۔ یا تو مریض کسی کو قبول نہیں کرتے تھے، یا اپنے ہی جیسا دعویٰ کرنے والے کے ساتھ ایک کمرے میں رہنے لگے، بات کرنے لگے، کارڈز کھیلنے لگے، گیت گانے لگے۔

بعد میں ڈاکٹر روکیاک نے ’’تھری کرائسٹس آف اپسلانٹی‘‘ کے نام سے کتاب لکھی جو بہت مقبول ہوئی۔ ان کے نتائج سے دوسرے ماہرین نے فائدہ اٹھایا اور مریضوں کی زندگی بہتر ہوئی۔ اس کتاب پر کئی ڈرامے کھیلے گئے اور اب ایک فلم نمائش کے لیے پیش کی گئی ہے۔

تھری کرائسٹس کے نام سے بننے والی فلم میں ڈاکٹر روکیاک کا کردار رچرڈ گیئر نے اور مریضوں کے کردار پیٹر ڈنکلیج، والٹن گوگنز اور بریڈلے وٹفورڈ نے ادا کیے ہیں۔

ذہنی مریضوں کے علاج میں ترقی یافتہ معاشرے کافی نکل گئے ہیں لیکن ترقی پذیر ملکوں میں ان کے ساتھ بہتر سلوک نہیں کیا جاتا۔

یہ فلم سوچنے کا موقع دیتی ہے کہ ذہنی مریضوں کے ساتھ ان کا معاشرہ، خاندان اور ڈاکٹر کیسا سلوک کر رہے ہیں۔ جس شخص کا دماغ اسے گمراہ کر رہا ہو، اس کا مذاق اڑانا یا اس پر تشدد کرنا ظلم ہے۔ ایسے مریض کو حقیقت سے قریب لا کر ہی اس کا بہتر علاج کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر علاج ممکن نہ ہو تو اس کے دماغ کی بنائی ہوئی تصویروں میں رنگ ضرور بھرے جا سکتے ہیں۔

تھری کرائسٹس تین مریضوں کی بے رنگ زندگی میں رنگ بھرنے کی ایک کوشش کی داستان ہے۔ اس کا اختتام بھی اتنا ہی المناک ہے، جتنا حقیقی مسیحا کا بیان کیا جاتا ہے۔ فلمی مبصرین کہتے ہیں کہ ڈاکٹر روکیاک کی کتاب کی طرح اس فلم کو یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG