رسائی کے لنکس

تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیوں پر تشدد سے متعلق رپورٹ طلب


فائل فوٹو

انگریزی اخبار ملی گزٹ ڈاٹ کام نے زخمی قیدیوں کی تصویروں کے ساتھ شائع رپورٹ میں الزام لگایا کہ ان قیدیوں کو جسمانی اذیتیں دی گئی ہیں۔

سہیل انجم

مرکزی وزیر داخلہ نے ان میڈیا رپورٹوں کے بعد کہ تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیوں پر تشدد ہوا ہے اور کئی قیدی زخمی ہو گئے ہیں، جیل کے ڈائریکٹر جنرل سے رپورٹ طلب کی ہے۔ وزارت داخلہ نے انہیں ہدایت دی کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو رپورٹ دیں اور مذکورہ واقعہ اور اس کے بعد کی گئی کارروائیوں کی تفصیلات پیش کریں۔

وزارت داخلہ نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل سے بھی کہا کہ وہ انتہائی سیکیورٹی کی حامل جیل میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے اور ضروری اقدامات کے لیے متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت دیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین قیدیوں کے پاس ممنوعہ اشیاء پائی گئیں اور جب جیل حکام نے وہ چیزیں حاصل کرنے کی کوشش کی تو قیدیوں نے مزاحمت کی جس پر جھگڑا ہو گیا۔

انگریزی اخبار ملی گزٹ ڈاٹ کام نے زخمی قیدیوں کی تصویروں کے ساتھ شائع رپورٹ میں الزام لگایا کہ ان قیدیوں کو جسمانی اذیتیں دی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زخمیوں میں شبیر احمد شاہ، پیر سیف اللہ، الطاف احمد شاہ، راجہ معراج الدین، نعیم احمد خاں اور فاروق احمد ڈار شامل ہیں۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل احمد آباد کی سابرمتی اور ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں اس سے بڑے حملے ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول پولیس اور ایجنسیاں اس معاملے میں ملی ہوتی ہیں اور کسی کو سبق سکھانا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔

ظفر الاسلام خاں نے مزید کہا کہ ہم نے اس معاملے میں کوئی ایکشن اس لیے نہیں لیا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی باقاعدہ ہدایت ہے کہ ان قیدیوں کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے اور ان پر تشدد نہ کیا جائے۔ اس کے باوجود اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں۔

اس سے قبل وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پر زخمی قیدیوں کی تصویریں دیکھنے کے بعد مرکزی داخلہ سیکرٹری راجیو گوبہ سے بات کی اور قیدیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔

علیحدگی پسند کشمیری راہنماؤں نے قیدیوں کی مبینہ حالت زار پر اظہار تشویش کیا اور الزام عاید کیا کہ کشمیری قیدیوں کے ساتھ تہاڑ اور دوسری جیلوں میں جو ناروا سلوک کیا جا رہا ہے وہ جیل قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہے۔

یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں پہنچ گیا ہے اور عدالت نے 27 نومبر کو اس معاملے پر سماعت کرتے ہوئے واقعہ کی جانچ کا حکم دے دیا ہے۔ اس نے حملوں کو انتہائی پریشان کن اور مکمل طور پر غیر منصفانہ قرار دیا۔

کارگزار چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس ہری شنکر کے بنچ نے ایک ٹرائل کورٹ کے ایک ضلع جج کی سربراہی میں ایک تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG