رسائی کے لنکس

پاکستان میں بنگلہ دیشی اور انڈونیشین فلموں کی مقبولیت، وجہ کیا ہے؟


  • رواں برس پاکستان میں انڈونیشیا کی لگ بھگ سات فلمیں ریلیز کی گئیں۔
  • پاکستانی سینماؤں میں 'مونا جن ٹو' کی ریلیز سے بنگلہ دیش کو نئی مارکیٹ مل گئی ہے۔
  • انڈونیشن فلم 'سجن' پاکستان میں 19 جنوری کو ریلیز ہوئی تھی جس نے چار ہفتوں میں چار کروڑ روپے کا بزنس کیا تھا۔
  • انڈونیشین اور بنگلہ دیشی فلموں کی غیر معمولی کامیابی کے بعد خطے کے دیگر ممالک کی فلم انڈسٹریاں بھی پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
  • پاکستان میں ترکش فلمیں لگ جائیں تو زیادہ بہتر ہوگا، ہدایت کار نبیل قریشی
  • پاکستان کے حالات اگر بہتر ہوجائیں تو یہاں بھی دوبارہ سے فلم سازی کا عمل شروع ہوجائے گا، نبیل قریشی

کراچی _ اردو زبان میں فلمیں نہ بننے کی وجہ سے پاکستان کی فلم انڈسٹری ان دنوں مشکلات سے دو چار ہے۔ ایسے میں سنیما گھروں کی رونقیں برقرار رکھنے کے لیے انڈونیشیا کے بعد اب بنگلہ دیش کی فلمیں بڑے پردے پر لگائی جا رہی ہیں۔

رواں برس پاکستان میں انڈونیشیا کی لگ بھگ سات فلمیں ریلیز کی گئیں جس میں سے چند ایک اس وقت بھی سنیما میں دکھائی جا رہی ہے۔

اسی طرح چھبیس اپریل کو بنگلہ دیشی زبان میں بننے والی ہارر فلم 'مونا جن ٹو' پاکستان میں ریلیز کی گئی۔ یہ فلم بنگلہ دیش میں عید الفطر کے موقع پر ریلیز کی گئی تھی۔

'مونا جن ٹو' کی ریلیز سے جہاں بنگلہ دیشی فلموں کو پاکستان کی شکل میں ایک نئی مارکیٹ مل گئی وہیں پاکستانی سنیما گھروں کی ضرورت بھی پوری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سن 2019 میں پاکستان میں بھارتی فلموں کی ریلیز پر پابندی سے سنیما کا بزنس بری طرح متاثر ہوا تھا۔ یہی نہیں عالمی وبا کرونا وائرس کے سبب سنیما گھروں کی رونقیں بالکل ماند پڑ گئیں تھیں۔

فلمیں بن ہی کم رہی ہیں، زیادہ بنیں تو نظر بھی آؤں: مہوش حیات
please wait

No media source currently available

0:00 0:07:09 0:00

فلم بینوں کو واپس سنیما کی طرف لانا فلم انڈسٹری کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے میں پاکستان میں انڈونیشیا اور بنگلہ دیش کی فلمیں مقامی زبان میں سب ٹائٹلز کے ساتھ پیش کی جا رہی ہیں۔

بین الاقوامی معیار کی فلموں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 2019 میں '122' نامی مصری فلم اردو زبان میں ڈب کر کے ریلیز کی گئی لیکن یہ تجربہ کامیاب نہ ہو سکا۔

اب رواں برس پاکستان میں 19 جنوری کو انڈونیشن فلم 'سجن' ریلیز ہوئی جس نے چار ہفتوں میں چار کروڑ روپے کا بزنس کیا۔

اس کے بعد پاکستان میں مزید پانچ انڈونیشین فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن کسی کو 'سجن' جیسی پذیرائی نہیں ملی۔ اس وقت بھی پاکستانی سنیما گھروں میں تین انڈونیشنئن فلموں کی نمائش جاری ہے۔

انڈونیشین اور بنگلہ دیشی فلموں کی نمایاں کامیابی کے بعد مقامی ڈسٹری بیوٹرز پرامید ہیں کہ جلد دیگر ممالک کی فلمیں بھی پاکستانی سنیما گھروں میں نظر آئیں گی۔

پاکستانی سنیما چین 'سنی پیکس' کے جنرل مینجر مرزا سعد بیگ کے مطابق ان کی کوشش ہوگی کہ ایرانی اور تھائی فلمیں بھی پاکستانی سنیما میں ریلیز کی جائیں۔

کیا سنیما میں سب ٹائٹلز کے ساتھ فلمیں دیکھی جاسکتیں ہیں؟

نوے کی دہائی میں جب 'پلس گلوبل' اور 'ریڈیو سٹی' نامی ویڈیو کیسٹ کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے آپریشن شروع کیے تو ناظرین پہلی مرتبہ سب ٹائٹلز سے متعارف ہوئے۔

بعد میں نیٹ فلکس سمیت دیگر او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے سب ٹائٹلز کے ساتھ فلم دیکھنے کو عام فہم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

لیکن ٹی وی اور سنیما اسکرین پر سب ٹائٹلز کے ساتھ فلم دیکھنے میں خاصا فرق ہے۔ سنیما کی اسکرین کا سائز ٹی وی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے جس وجہ سے ایک ہی ساتھ نیچے لکھے سب ٹائٹلز پڑھنا اور ویڈیو دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

فلمی نقاد محمد کامران جاوید نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب ٹائٹلز کے ساتھ فلمیں دیکھنے والے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں کہ انہیں فلم دیکھنے کے ساتھ ساتھ سب ٹائٹل بھی پڑھنا ہیں اس لیے انہیں زیادہ فرق نہیں پڑتا۔

انہوں نے سن 2013 میں ریلیز ہونے والی فلم 'وار' کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ فلم کے زیادہ تر مکالمے انگریزی زبان میں تھے جس وجہ سے اس میں اردو سب ٹائٹلز کا تجربہ کیا گیا تھا۔ یہ تجربہ فلم کے ہٹ ہونے سے درست ثابت ہوا تھا۔

کامران جاوید سمجھتے ہیں کہ سب ٹائٹل پڑھنا ڈس ٹریکٹنگ یعنی توجہ ہٹانے کے مترادف ہے لیکن اب لوگ یوٹیوب، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور ڈراموں کی وجہ سے اس کے عادی ہو چکے ہیں۔

ان کے بقول، پاکستان میں ہالی وڈ فلموں پر وہ رسپانس نہیں آرہا جیسا ماضی میں آتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سنیما کا بزنس متاثر ہو رہا ہے۔

انڈونیشین فلموں سے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال پاکستان میں صرف 'سجن' ہی کامیاب ہوئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ فلم میں دکھایا جانے والا کلچر ہے جو پاکستانی کلچر سے مشابہت رکھتا ہے۔

کامران جاوید سمجھتے ہیں کہ مقامی زبان میں انٹرنیشنل ڈبنگ کے ساتھ فلم چلانا بہتر آپشن تو ہے لیکن اس کے لیے پروڈیوسر کا خرچہ بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب سب ٹائٹلز کو ترجیح دے رہے ہیں۔

'حالات بہتر ہو جائیں تو فلم سازی دوبارہ شروع ہو جائے گی'

رواں برس باکس آفس پر صرف ایک ہی پاکستانی فلم 'دغا باز دل' اچھا بزنس کرسکی ہے جو عید الفطر کے موقع پر ریلیز کی گئی تھی۔

اس سے قبل تین اردو فلمیں وکھری، نایاب اور ٹکسالی گیٹ بھی ریلیز ہوئیں لیکن تینوں ہی باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکیں۔

نامعلوم افراد، ایکٹر ان لا اور قائد اعظم زندہ باد جیسی فلمیں بنانے والے ہدایت کار نبیل قریشی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حالات اگر بہتر ہوجائیں تو یہاں بھی دوبارہ سے فلم سازی کا عمل شروع ہوجائے گا۔

ان کے خیال میں پاکستان میں فلمیں اس لیے کم بن رہی ہیں کیوں کہ گزشتہ دو برس سے ملک میں ایک غیر یقینی کی صورتِ حال ہے جس میں آہستہ آہستہ اب بہتری آ رہی ہے۔

انٹرنیشنل فلموں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چوں کہ پاکستان میں انڈونیشیا اور بنگلہ دیش کے اسٹارز کو لوگ نہیں جانتے اس لیے فلم کے پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر کو انہیں جارحانہ مارکیٹنگ کے ذریعے پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کرنا ہو گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں ترکش فلمیں لگ جائیں تو زیادہ بہتر ہوگا کیوں کہ یہاں کے لوگ ترکیہ کے اداکاروں اور اداکاراؤں کو ان کے ڈراموں کی وجہ سے جانتے ہیں۔

  • 16x9 Image

    عمیر علوی

    عمیر علوی 1998 سے شوبز اور اسپورٹس صحافت سے وابستہ ہیں۔ پاکستان کے نامور انگریزی اخبارات اور جرائد میں فلم، ٹی وی ڈراموں اور کتابوں پر ان کے تبصرے شائع ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد نام وَر ہالی وڈ، بالی وڈ اور پاکستانی اداکاروں کے انٹرویوز بھی کر چکے ہیں۔ عمیر علوی انڈین اور پاکستانی فلم میوزک کے دل دادہ ہیں اور مختلف موضوعات پر کتابیں جمع کرنا ان کا شوق ہے۔

فورم

XS
SM
MD
LG