رسائی کے لنکس

امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن ہفتہ کو بیجنگ پہنچے ہیں جہاں وہ شمالی کوریا کی جوہری اشتعال انگیزی کے خلاف چین کے تعاون سے پیانگ یانگ پر "انتہائی سخت دباؤ" ڈالنے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

ٹلرسن نے چین کے صدر شی جنپنگ سے ملاقات میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ترک کروانے سے دباؤ بڑھانے جیسے امور پر بات کی۔

علاوہ ازیں انھوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے بھی ملاقات کی۔

ان ملاقاتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورہ چین سے متعلق تیاریوں پر بھی بات چیت کی گئی۔ یہ دورہ نومبر میں ہونے جا رہا ہے۔

امریکہ، چینی عہدیداروں سے قریبی رابطے میں رہتے ہوئے بیجنگ کی طرف سے شمالی کوریا کی کوئلے، خام لوہے اور خام لیڈ کی درآمدات پر قدغن لگانے کی بابت بات کرتا آ رہا ہے۔

اس اس قدغن پر پوری طرح عملدرآمد ہوتا ہے تو اس سے شمالی کوریا کے مالی وسائل پر بہت منفی اثر پڑے گا۔

محکمہ خارجہ کے مطابق گزشتہ سال چین کو یہ اشیا برآمد کر کے شمالی کوریا نے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کمائے تھے۔

چین، شمالی کوریا کا اہم ترین تجارتی شراکت دار ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ چین کو ساتھ شامل کر کے پیانگ یانگ کے مالی وسائل کے حصول میں رکاوٹ کے لیے کلیدی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں

لیکن مبصرین کے خیال میں اس کے باوجود بھی چین کا پیانگ یانگ پر اثر ورسوخ محدود شاید اتنا زیادہ نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG