رسائی کے لنکس

logo-print

کیا ریکس ٹلرسن کو اپنی برطرفی کا پہلے سے علم تھا؟


ریکس ٹلرسن نائجیریا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ابوجا کے ہوائی اڈے سے روانہ ہورہے ہیں۔ اس دورے سے واشنگٹن واپس پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد صدر ٹرمپ نے ٹلرسن کو ان کے عہدے سے ہٹادیا تھا۔

امریکی محکمۂ خارجہ سے متعلق امور کور کرنے والی وائس آف امریکہ کی نمائندہ نائیکی چنگ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ریکس ٹلرسن کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا تھا۔

امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کی اچانک برطرفی اور ان کی جگہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ مائیک پومپیو کو نیا وزیرِ خارجہ نامزد کرنےکے اعلان کے بعد امریکہ میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ آیا یہ خبر ٹلرسن کے لیے بھی غیر متوقع تھی یا انہیں اپنی برطرفی کا پہلے سے علم تھا۔

امریکی محکمۂ خارجہ سے متعلق امور کور کرنے والی وائس آف امریکہ کی نمائندہ نائیکی چنگ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ریکس ٹلرسن کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ٹلرسن کی برطرفی اور مائیک پومپیو کی نئے وزیرِ خارجہ کے طور پر نامزدگی کا اعلان منگل کو ایک ٹوئٹ میں کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ کےبعد امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ اسٹیو گولڈ اسٹین نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹلرسن کی اس بارے میں صدر سے کوئی بات نہیں ہوئی اور انہیں اپنی برطرفی کی وجہ کا علم نہیں۔

اپنی ٹوئٹ میں اسٹیو گولڈ اسٹین نے کہا تھا کہ ٹلرسن کا پورا ارادہ تھا کہ قومی سلامتی کے امور سے متعلق ہونے والی انتہائی اہم پیش رفت کے پیشِ نظر وہ بطور وزیرِ خارجہ اپنی خدمات انجام دیتے رہیں۔ لیکن انہیں خوشی ہے کہ انہیں اس عہدے پر کام کرنے کا موقع ملا۔

اس بیان کے کچھ دیر بعد ہی وائٹ ہاؤس نے اسٹیوگولڈ اسٹین کو بھی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ کے عہدے سے برطرف کردیا تھا اور ان کی جگہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ہیتھر نوارٹ کو انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے پبلک ڈپلومیسی اور پبلک افیئرز تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ سے چند گھنٹے قبل ہی ٹلرسن پانچ افریقی ملکوں کا ایک ہفتے طویل دورہ مکمل کرکے واشنگٹن ڈی سی واپس پہنچے تھے جس کے دوران وی او اے کی نمائندہ نائیکی چنگ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

نائیکی چنگ کے مطابق پورے دورے کے دوران سیکریٹری ٹلرسن نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑنے والے ہیں بلکہ انہوں نے معمول کے مطابق ہی اپنی تمام سرگرمیاں انجام دیں۔

لیکن امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے منگل کو وائس آف امریکہ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکریٹری ٹلرسن کو گزشتہ ہفتے ہی ان کے عہدے سے ہٹانے کی اطلاع دیدی گئی تھی۔

امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف جان کیلی نے جمعے کو سیکریٹری ٹلرسن کو فون پر بتایا تھا کہ صدر انہیں اپنی کابینہ سے نکال رہے ہیں۔

امریکی اہلکار نے کہا کہ جان کیلی نے اس بارے میں ہفتے کو بھی سیکریٹری ٹلرسن سے دوبارہ فون پر بات کی تھی۔

لیکن امریکی اہلکار کا یہ دعویٰ ٹلرسن کی برطرفی کے اعلان کے بعد مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی ان اطلاعات سے متصادم ہے جن سے پتا چلتا ہے کہ جان کیلی نے ٹلرسن کو صاف صاف نہیں بتایا تھا کہ انہیں عہدے سے ہٹایا جارہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' نے دعویٰ کیا ہے کہ جان کیلی نے ریکس ٹلرسن کو صرف اتنا بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ ممکن ہے عن قریب کوئی ایسی ٹوئٹ کردیں جس سے انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ لیکن اے پی کے مطابق جان کیلی نے ٹوئٹ کے مضمون سے متعلق ٹلرسن کو کچھ نہیں بتایا تھا۔

ریکس ٹلرسن نے اپنے ساتھ افریقہ کا سفر کرنے والے صحافیوں سے بھی اس فون کال کا تذکرہ کیا تھا لیکن انہوں نے بھی وضاحت نہیں کی تھی اس کال پر کیا بات ہوئی تھی۔

ٹلرسن نے کہا تھا کہ انہیں جمعے کی رات ڈھائی بجے ایک فون آیا تھا جس نے انہیں سوتے سے جگا دیا تھا اور جس کے بعد وہ کافی دیر تک دوبارہ نہیں سو سکے تھے۔

اس فون کال کے تین دن بعد تک ٹلرسن افریقی ملکوں کے دورے پر تھے اور اس دوران نائیکی چنگ کے مطابق وہ بالکل مطمئن نظر آئے اور معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں انجام دیتے رہے۔

گو کہ ٹلرسن کی برطرفی شاید خود ان کے لیے بھی غیر متوقع تھی لیکن واشنگٹن ڈی سی کے بااثر حلقوں میں یہ تاثر عام تھا کہ صدر اور ٹلرسن کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات ہیں۔

خود صدر ٹرمپ نے بھی ماضی میں ٹلرسن کے ساتھ اپنے اختلافات کا ذکر کیا تھا جب کہ یہ اطلاعات بھی ذرائع ابلاغ میں آتی رہی تھیں کہ دونوں کے درمیان بعض معاملات پر تکرار بھی ہوئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG