رسائی کے لنکس

شمالی کوریا سے متعلق 'مختلف حکمت عملی کی ضرورت ہے': ٹلرسن


امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن ( دائیں سے دوسرے) 17 مارچ کو جنوبی کوریا میں پیونگٹیک کے اوسان ایئر بیس پہنچے پر

ٹلرسن نے جمعرات کو ایشیا کے دورے کے پہلے مرحلے میں ٹوکیو پہنچنے کے بعد کہا تھا کہ شمالی کوریا سے متعلق ’’ایک مختلف حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔"

امریکہ کے اعلیٰ سفارت کار نے جمعہ کو شمالی اور جنوبی کوریا کو منقسم کرنے والے غیر فوجی علاقہ کا دورہ کیا ہے۔

امریکہ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اپنے ایشیا کے دورے کے دوسرے مرحلے میں جمعہ کو جنوبی کوریا پہنچے۔

وہ جنوبی کوریا کے قائم مقام صدر اور جنوبی کوریا کے ہم منصب ین بائینگ سے سیئول سے ملاقات کریں گے۔

ٹلرسن نے جمعرات کو ایشیا کے دورے کے پہلے مرحلے میں ٹوکیو پہنچنے کے بعد کہا تھا کہ شمالی کوریا سے متعلق ’’ایک مختلف حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔"

امریکہ کی اعلیٰ سفارت کار نے کہا کہ اس خطے کے دورے کا ایک مقصد جاپان، جنوبی کوریا اور چین کے ساتھ تعاون کے دیگر راستوں پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

ٹلرسن نے جاپان کے وزیر خارجہ فیومیو کشیدا کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ "شمالی کوریا اور اس کے عوام کو امریکہ اور خطے کے اپنے ہمسایہ ممالک سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔"

"اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے امریکہ شمالی کوریا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو ختم کر دے اور کسی بھی مزید اشتعال انگیزی سے گریز کرے۔"

انہوں نے جاپان اور اپنے دیگر اتحادیوں کے دفاع کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسے " غیر متزلزل" قرار دیا۔

ٹلرسن اپنے دور کے آخری مرحلے میں چین جائیں گے جہاں ان کے ایجنڈے میں دیگر امور کے علاوہ صدر ژی جنپنگ سے ملاقات کرنا بھی شامل ہے۔

جاپان اور کوریا جہاں امریکی فورسز تعینات ہیں شمالی کوریا کے میزائلوں کی رینج میں ہیں وہ شمالی کوریا پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ بڑھانے کی امریکی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

ٹلرسن کی صدر ژی کے ساتھ بات چیت چینی صدر کی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مجوزہ ملاقات کی راہ ہموار کریں گے جو متوقع طور پر اپریل میں فلوریڈا میں ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG