رسائی کے لنکس

مانچسٹر بم حملے کی حساس معلومات کے افشا پر ٹلرسن کا اظہارِ معذرت


ٹِلرسن نے کہا کہ ’’صدر نے اِس عمل کی انتہائی ٹھوس الفاظ میں مذمت کی ہے، اور فوری چھان بین اور اِن اطلاعات کو افشا اور عام کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر زور دیا ہے‘‘

امریکی وزیر خارجہ، ریکس ٹِلرسن نے کہا ہے کہ امریکہ پیر کے روز مانچسٹر میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد حساس نوعیت کی معلومات کے افشا ہونے کی ’’مکمل ذمے داری‘‘ قبول کرتا ہے۔

جمعے کے روز برطانیہ کے اپنے پہلے دورے میں، ٹِلرسن نے کہا کہ امریکہ کو ’’افسوس‘‘ ہے کہ اطلاعات لیک ہوئیں، جس کے بعد برطانیہ کے حکام نے مختلف امریکی ذرائع ابلاغ میں اِن کے شائع ہونے کی شکایت کی۔

ٹِلرسن نے کہا کہ ’’صدر نے اِس عمل کی انتہائی ٹھوس الفاظ میں مذمت کی ہے، اور فوری چھان بین اور اِن اطلاعات کو افشا اور عام کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر زور دیا ہے‘‘۔

حساس نوعیت کی اطلاعات کے افشا ہونے کے نتیجے میں برطانیہ نے بم حملے کے بارے میں مختصر وقت کے لیے امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ بند کر دیا تھا۔

تاہم، اطلاعات کا تبادلہ اس وقت فوری بحال ہوا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم تھریسا مئے نے آپس میں گفتگو کی، اور ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ مستقبل میں اطلاعات کو محفوظ رکھا جائے گا۔

جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں، ٹرمپ نے عہد کیا ہے کہ اطلاعات کے افشا کے معاملے کی ’’تہ تک پہنچا جائے گا‘‘ اور امریکی محکمہٴ انصاف سے کہا ہے کہ وہ معاملے کا مکمل جائزہ لے۔

ٹِلرسن نے جمعے کے روز کہا ہے کہ ’’دونوں ملکوں کےآپس میں خصوصی تعلقات ہیں، جو یقینی طور پر اِس مخصوص بدقسمت واقعے سے نبردآزما ہو سکیں گے‘‘۔

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کے ساتھ ملاقات میں وزیر خارجہ نے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے 22 افراد کو خراج عقیدت پیش کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG