رسائی کے لنکس

logo-print

نیویارک کے ٹائمز سکوائر کوعام شہریوں کے لیے کھول دیا گیا


نیویارک شہر کے حکام نے شہر کے تفریحی علاقے کے قلب میں واقع ٹائمز سکوائر کو بم کے خطرے کے پیش نظر خالی کرانے کے کئی گھنٹوں کے بعد اب گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کے دوبارہ کھول دیا ہے۔

پولیس نے اتوار کے روز اس گاڑی کو وہاں سے ہٹا دیا جس میں دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا، اورجس کے بارے میں نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ کا کہنا ہے کہ وہ ایک بہت مہلک سانحہ کا باعث بن سکتاتھا۔

اخبارنیویارک ٹائمز نے محکمہ پولیس نیویار ک ترجمان اعلیٰ ڈپٹی کمشنر پال براؤن کے حوالے سے کہا ہے کہ ہفتے کی رات کو جب اس گاڑی کا پتا چلا تو اس میں موجود بم پھٹنے کے عمل سے گذر رہاتھا ، لیکن کسی خرابی کے باعث دھماکہ نہیں ہوسکا۔

ایک بم اسکوارڈ کو اس مشتبہ سپورٹس گاڑی کی تحقیقات کے لیے بھیج دیا گیا ہے ، جس کے بارے میں میئر بلوم برگ کا کہنا ہے کہ اس میں پروپین کے ٹینک ، پٹرول ، تجارتی پیمانے کی آتش بازی کی چیزیں اور ٹائمرموجود تھے۔

نیویارک کے میئر کا کہنا ہے کہ حکام کو یہ علم نہیں ہے کہ اس کار بم کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ، لیکن ایف بی آئی اور دوسرے ادارے اس کی تحقیقات کررہی ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما نےمحکمہ نیویارک پولیس کی فوری کارروائی پر اس کی تعریف کی ہے۔

نیویارک کے گورنر ڈیوڈ پیٹر سن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اسے دہشت گردی کی ایک کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

دہشت گروپوں پرتحقیق کرنے والی ایک کمپنی انٹل سینٹر کا کہنا ہے کہ یہ کہنا بہت قبل ازوقت ہے کہ آیا اس کار بم کے پیچھے کسی جہادی گروپ یا کسی مقامی تنظیم یاکسی انفرادی شخص کا ہاتھ ہے۔

نیویارک شہر کی پولیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایک پاکستانی گروپ نے ہفتے کے روز ٹائمز سکوئر میں ہونے والی کار بم حملے کی کوشش کو طالبان سے منسلک کیا ہے، مگرہمیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے۔

نیویارک پولیس کے کمشنر نے اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور کہا کہ گاڑی اور دھماکہ خیز مواد کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک مشتبہ شخص کوگرفتار کیا گیا ہے مگرا بھی اس سے بات چیت نہیں ہوئی۔



XS
SM
MD
LG