رسائی کے لنکس

logo-print

کلنٹن کی ای میلز کے بارے میں ایف بی آئی کے اعلان پر تنقید


فلوریڈا کی ریاست میں ایک مہم کے دوران ہلری کلنٹن نے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ "انتخاب سے پہلے اتنی تھوڑی معلومات کی بنا پر اس معاملے کو سامنے لانا بہت حیران کن ہے۔"

ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن نے امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' کی طرف سے اس بات کا اعلان کہ وہ ان کے ای میلز سے متعلق سامنے آنے والے نئے شواہد کا جائزہ لے رہا ہے، کے وقت کو "غیر معمولی" اور"سخت تشویش کا باعث"قرار دیا۔

فلوریڈا کی ریاست میں ایک مہم کے دوران انھوں نے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ "انتخاب سے پہلے اتنی تھوڑی معلومات کی بنا پر اس معاملے کو سامنے لانا بہت حیران کن ہے۔"

کلنٹن نے بعد ازاں کہا کہ "ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں، اس انتخاب کے آخری دس دنوں میں (اس) شور اور توجہ ہٹانے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔"

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جمیز کومی نے جمعہ کو قانون سازوں کے نام ایک خط میں کہا تھا کہ کلنٹن کے معاملے سے متعلق نئی ای میلز سامنے آئی ہیں۔ ایف بی آئی کی روایت رہی ہے کہ وہ انتخاب سے پہلے چند دنوں میں کسی بھی طرح کے متازع امور پر بیان سے احتراز کرتا رہا ہے لیکن کومی نےاس روایت کے باوجود یہ بیان دیا۔

ہفتے کو سامنے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ کے محکمہ انصاف کے عہدیداروں نے کومی کو متنبہ کیا کہ کانگرس کو (ہلری کے ای میلز کے بارے میں) نئے مواد کے بارے میں آگاہ کرنا محکمے کی روایت کے مطابق نہیں ہے۔ جس کے بعد کومی نے ایف بی آئی کے عہدیداروں کو روایت سے ہٹ کر کیے جانے والے اقدام کے وجہ کے بارے میں بتایا۔

انہوں نے کہا کہ عام حالات میں ہم کانگرس کو کسی جاری تفتیش کے بارے میں نہیں بتاتے ہیں۔

" تاہم یہاں ایسا کرنا میں اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کیونکہ حالیہ مہینوں میں اس بارے میں اپنا بیان ریکارڈ کروا چکا ہو کہ ہماری تفتیش مکمل ہو گئی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ریکارڈ کو نا دیکھتے تو یہ امریکی عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہوتا۔ "

دوسری طرف ایف بی آئی کے اعلان پر یہ تنقید ہو رہی ہے کہ یہ ادارہ امریکہ کے صدراتی انتخاب کی دوڑ میں مداخلت کر رہا ہے۔

اگرچہ ان ای میلز کی نشاندہی ہوئی ہے تاہم امریکہ کے موقر اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو ان کو پڑھنے کے لیے عدالت سے اجازت حاصل کرنی ہوگی۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو یقینی طور پر انتخاب کے دن سے پہلے مکمل نہیں ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف امریکن انٹر پرائز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک سیاسی امور کے ماہر نارمن اورنسٹین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کومی کے طرف سے اس اعلان کا وقت " حیران کن" ہے۔

انہوں نے کہا کہ " واضح طور پر اس میں جلدی کی ضرورت نہیں تھی۔"

"بہت ممکنہ طور پر کئی مہینوں تک یہ معاملہ حل نہیں ہو سکتا ہے۔ بظاہر اس میں کوئی بہت مذموم بات بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔اگر آپ انتخاب سے 11 دن پہلے اس کا اعلان کررہے ہیں تو پھر یہ آپ کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ آپ اس کی وضاحت کریں۔"

دوسری طرف سیاسی مبصر ایلن لچمین نے ہفتے کو کہا کہ کومی نے شاید یہ اعلان اس لیے کیا ہوا کہ وہ اپنی ساکھ کو بچانا چاہتے ہوں۔ " المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو (ان الزامات سے بچانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کچھ شواہد چھپائے ہیں) ، انہوں نے ایک ایسے انتخاب کو متنازع بنا دیا ہے جو بہت زیادہ اہم ہے۔"

لچمین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "یہ ملک کے مستقبل کی راہ متعین کرے گا، نا صرف آئندہ چار سالوں کے دوران بلکہ شاید آئندہ ایک نسل تک۔۔۔۔ایسا کرنا ان کا کام نہیں ہے۔"

ادھر ریپبلکن راہنماؤن نے اس امر پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے ہلری کلنٹن کی سرکاری ای میلز کے معاملے کے بارے میں روا رکھے جانے والے غیر معیاری طریقہ کار سے متعلق شکایت کی توثیق ہے۔

کلنٹن یہ کہہ چکی ہیں کہ انہوں نے سرکاری محفوظ ای میل سرور کو استعمال کرنے کی بجائے اپنا نجی ای میل سرور سہولت کے لیے استعمال کیا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خط و کتابت کو معلومات تک رسائی کی آزادی سے متعلق قانون سے دور رکھنا چاہتی تھیں۔

XS
SM
MD
LG