رسائی کے لنکس

logo-print

تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد دن میں دو گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں ان میں وقت سے پہلے مرنے کی شرح دن میں ایک گھنٹہ ٹی وی دیکھنے والوں کی نسبت 40 فی صد زیادہ تھی

اسپین میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ ہر روز ٹیلی ویژن کے سامنے تین سے چار گھنٹے گزارنے سے زندگی کا دورانیہ کم ہو سکتا ہے اور انسان وقت سے پہلے موت کے منہ میں جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ کم ٹی وی دیکھتے ہیں ان کی نسبت زیادہ ٹی وی دیکھنے والے زیادہ خطرے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ کسی بھی انسان کے لیے زیادہ بیٹھنا درست نہیں مگر گاڑی چلاتے وقت بیٹھنا یا پھر کمپیوٹر پر بیٹھنا اتنا نقصان دہ نہیں جتنا کہ ٹیلی ویژن کے سامنے دیر تک بیٹھنے سے نقصان ہوتا ہے۔

تحقیق دانوں نے اس تحقیق کے لیے 37 برس کی اوسط عمر کے لوگوں کے اعداد و شمار اکٹھا کرکے اس کا جائزہ لیا۔

ڈاکٹر میگیوئل گونزالز پیمپلونا میں یونیورسٹی آف نوارا سے منسلک ہیں اور اس تحقیق کی سربراہی کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ، ’ہم نے اس موضوع پر تحقیق اس لیے کی کیونکہ اس سے پہلے محض معمر افراد اور زیادہ دیر تک ٹیلی ویژن دیکھنے کے اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ مگر ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا نوجوانوں کو بھی اس عادت سے نقصان پہنچ سکتا ہے یا نہیں؟‘

ڈاکٹر میگیوئل گونزالز اور ان کی ٹیم کی جانب سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہر روز ٹی وی کے سامنے دو گھنٹے گزارنے سے انسان کی زندگی میں وقت سے پہلے موت کا 13 فی صد امکان بڑھ جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر ہر روز ٹی وی کے سامنے تین گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت گزارا جائے تو پھر یہ شرح مزید بڑھ جاتی ہے۔

اس تحقیق کے لیے تحقیق دانوں نے 1999ء سے لے کر اب تک 13,284 افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔

تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد دن میں دو گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں ان میں وقت سے پہلے مرنے کی شرح دن میں ایک گھنٹہ ٹی وی دیکھنے والوں کی نسبت 40 فی صد زیادہ تھی۔

اس تحقیق میں جن افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ان کی روزمرہ زندگی کی عادات، کھانے پینے کی عادات، عمر، وزن، تمباکو نوشی اور ورزش کی روٹین جیسی چیزوں کا بھی تعین کیا گیا۔

تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے کی گئی تحقیق کے نتائج یہ ثابت نہیں کرتے کہ ٹی وی دیکھنے سے انسان وقت سے پہلے مر سکتا ہے۔ مگر ان دونوں چیزوں کے درمیان ربط ضرور پتہ چلتا ہے۔

یہ تحقیق جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسو سی ایشن میں شائع کی گئی۔

XS
SM
MD
LG