رسائی کے لنکس

logo-print

ایران یورینیم کی افزودگی کا درجہ بڑھانے پر تیار ہے: ولایتی


علی اکبر ولایتی (فائل فوٹو)

ایران کے رہبر اعلیٰ کے چوٹی کے مشیر نے کہا ہے اسلامی جمہوریہ یورینیم کی افزودگی اس سطح سے آگے بڑھانے پر تیار ہے جسے 2015ء کے جوہری معاہدے میں ایران نے طے کیا تھا۔ ایران نے یورپ کو سمجھوتے میں نئی شرائط شامل کرنے کی پیش کش کر رکھی ہے جس کی ڈیڈلائن اتوار کو ختم ہو رہی ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ ’’امریکیوں نے معاہدے کی براہ راست، جبکہ یورپ والوں نے معاہدے کی بالواسطہ خلاف ورزی کی ہے۔‘‘ اس ایرانی بیان کو یورپ کے ساتھ اختیار کیا جانے والا سخت انداز قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے میں شامل یورپی فریقین نے ایران کی پیش کش کا ابھی کوئی جواب نہیں دیا جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت اقتصادی تعزیرات سے بچا جا سکے۔ یہ تعزیرات اس وقت لگائی گئیں جب ایک سال قبل امریکی صدر معاہدے سے الگ ہوئے۔ ان تعزیرات میں خاص طور پر ایران کے لیے اہم تیل کی فروخت کا معاملہ شامل ہے۔

یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں ہزاروں کی تعداد میں فوجیں تعینات کر دی ہیں۔ ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ، نیوکلیئر استعداد کے حامل بی 52 بمبار اور جدید لڑاکا جیٹ طیارے آ چکے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکروں پر پراسرار حملے، ایرانی پشت پناہی والے باغیوں کے یمن سے سعودی عرب پر کیے گئے حملے اور ایران کی جانب سے ایک امریکی فوجی ڈرون مار گرائے جانے کے نتیجے میں خطے میں تنازعہ بھڑک اٹھنے کا خدشہ ہے۔

یہ ویڈیو ہفتے کے دن سے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خانمہ ای کی ویب سائٹ پر موجود ہے، جس میں ولایتی کہتے ہیں کہ جوہری ہتھیار بنانے کے قریب درجے کی یورینیم کی افزودگی کی ’’منظوری اسٹیبلشمنٹ کے ہر ایک رکن نے متفقہ طور پر دی ہے‘‘۔

ولایتی خامنہ اے کے مشیر برائے بین الاقوامی امور ہیں۔ ان کے بقول ’’جس حد تک وہ اس کی خلاف ورزی کریں گے، ہمارا رد عمل اتنا ہی شدید ہو گا۔ اگر وہ اپنی جانب سے دی گئی ضمانتوں کی پاسداری کریں گے تو ہم بھی ویسا ہی کریں گے‘‘۔

ایٹمی معاہدے کے تحت ایران اس بات پر رضامند ہوا تھا کہ وہ 3.67 فی صد سے زائد سطح کی افزودگی نہیں کرے گا جو پر امن مقاصد کے لیے کافی ہے جبکہ یہ درجہ جوہری ہتھیاروں کی سطح سے کہیں نیچے ہے جس کے لیے یورینیم کی افزودگی 90 فی صد درکار ہوتی ہے۔

ایران اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ لیکن نیوکلیئر معاہدے میں اس امکان سے بچنے کا بندوبست کیا گیا تھا جس میں ایران کے یورینیم کے ذخیرے کو 300 کلوگرام (661 پاؤنڈ) سے بڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔
پیر کے روز ایران اور اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے تسلیم کیا ہے کہ ایران نے یورینیم کے ذخیرے کی یہ حد توڑ دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG