رسائی کے لنکس

logo-print

شام: ایک اعلیٰ مذاکرات کار بات چیت کے عمل سے الگ ہو گئے


جیشن الاسلام نامی باغی گروہ کے اعلیٰ رکن محمد العوش نے کہا ہے کہ وہ ملک میں جاری خانہ جنگی کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششوں کی ناکامی پر اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔

شام کی حزب اختلاف کی طرف سے امن مذاکرات میں شریک نمائندے نے کہا ہے کہ وہ ملک میں جاری خانہ جنگی کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششوں کی ناکامی پر اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔

اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں محمد العوش نے صدر بشار الاسد کی صدارت کو بچانے کے لیے روس کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز کی کارروائیوں کو اپنے فیصلے کی وجہ قرار دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر جیشن الاسلام نامی باغی گروہ کے اعلیٰ رکن محمد العوش نے ان کی بقول ’’حکومت کی ضد اور شامی عوام پر مسلسل بمباری اور جارحیت‘‘ کا حوالہ دیا۔

اپریل میں جنیوا میں دو ہفتے تک جاری رہنے والے امن مذاکرات، جہاں اقوام متحدہ کے سفارتکاروں نے اسد حکومت اور حزب اختلاف کے سفیروں سے الگ ملاقاتیں کیں، بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے کیونکہ شام کی سرحد کے قریب دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی تھی۔

اس کے بعد مئی کے اواخر میں متوقع مذاکرات نہ بھی ہو سکے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی سٹافن ڈی مستورا نے کہا تھا کہ آئندہ مذاکرات کی اس وقت تک کوئی تاریخ نہیں رکھی جائے گی جب تک متحارب فریقین جنگ بندی اور ہزاروں محصور شامی شہریوں تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے کا راستہ دینے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے اتوار کو العوش کے استعفے پر فوری تبصرہ نہیں کیا گیا۔

اس سال کے اوائل میں تجزیہ کاروں نے جنیوا مذاکرات کے بارے میں محتاط امید کا اظہار کیا تھا کہ ان سے پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہو سکتا ہے جس میں تین لاکھ شہری ہلاک اور لاکھوں دیگر بے گھر ہوئے ہیں۔

مگر فروری میں اسد حکومت اور باغی گروہوں کے درمیان طے پانے والی عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد یہ امید معدوم ہو رہی ہے۔

وسط اپریل میں ہونے والے جنیوا مذاکرات کے دوران شمالی شہر حلب میں لڑائی شروع ہو گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG