رسائی کے لنکس

logo-print

اعلیٰ امریکی قانون سازوں کی پاکستان کی امداد بند کرنے کی دھمکی


نمائندہ خصوصی اولسن نے کہا کہ وہ یہ تحفظات پہنچا دیں گے لیکن ان کے بقول اوباما انتظامیہ کا ماننا ہے کہ پاکستان کو معاونت کی فراہمی جاری رکھنا امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے کیونکہ یہ ملک انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کر رہا ہے۔

امریکہ کے دونوں سیاسی جماعتوں کے اعلیٰ قانون سازوں نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے جوہری ہتھیاروں پر یہ کہہ کر تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ یہ ملک اب بھی دہشت گردوں کی آماجگاہ اور مذہبی انتہا پسندی کا ذریعہ ہے۔

ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ امور نے بدھ کو انسداد دہشت گردی میں پاکستان کے تعاون، اس کی تعلیمی اصلاحات کے لیے کوششیں اور اسے دی جانے والی امریکی امداد کا جائزہ لینے کے لیے سماعت کی۔

کمیٹی کے چیئرمین ریپبلکن ایڈ روئس کا کہنا تھا کہ پاکستان سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھنا والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بننے کی ڈگر پر ہے اور اس کے جھوٹے جوہری ہتھیار اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل زیادہ تشویش کے باعث ہیں۔

ان کے بقول یہ ملک اپنے مجموعی بجٹ کا بڑا حصہ فوج کے لیے مختص کرتی ہے جب کہ تعلیم کا بجٹ ڈھائی فیصد سے بھی کم ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن نے سماعت میں اوباما انتظامیہ کا نقطہ نظر پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اس کے جوہری ہتھیاروں اور دیگر سلامتی کے معاملات پر کھل کے بات چیت کرتا رہا ہے اور ان کے بقول اوباما انتظامیہ پاکستان کے ساتھ ایسا جوہری معاہدہ کرنے پر بات چیت نہیں کر رہا جیسا کہ اس کا بھارت کے ساتھ ہے۔

کیمٹی کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن ارکان نے امریکہ کی طرف سے ستمبر 2001ء کے بعد سے پاکستان کو دی گئی 30 ارب ڈالر کی اقتصادی و فوجی امداد پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی حکومت اب بھی دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی حمایت میں کر رہی ہے۔

متعدد قانون سازوں نے اسلام آباد پر "دو طرف کردار ادا" کرنے کا الزام عائد کیا۔

ڈیموکریٹک نمائندے بریڈ شرمین نے اولسن سے کہا کہ وہ پاکستانی حکام کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ پاکستان کو ایک سچے شراکت دار کے طور پر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر ان کے بقول کانگریس میں بعض لوگ اس ملک کے لیے تمام امریکی امداد کو ختم کرنے کے لیے زور دے سکتے ہیں۔

نمائندہ خصوصی اولسن نے کہا کہ وہ یہ تحفظات پہنچا دیں گے لیکن ان کے بقول اوباما انتظامیہ کا ماننا ہے کہ پاکستان کو معاونت کی فراہمی جاری رکھنا امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے کیونکہ یہ ملک انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کر رہا ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی و انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے رواں سال کے اوائل میں قومی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا جب کہ گزشتہ سال جون سے اس کی فوج نے شدت پسندوں کے خلاف قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بھرپور کارروائی شروع کی تھی۔

اس کارروائی میں پاکستانی فوج کے مطابق 3400 ملکی و غیر ملکی عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں جب کہ ان کے سیکڑوں ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

ڈیموکریٹ رکن ایلیوٹ اینجل کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خود دہشت گرد گروپوں سے اپنے ہاں بہت زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اور 2003ء سے اس کے 50 ہزار سے زائد شہری مارے جا چکے ہیں۔

روئس نے کہا کہ یہ جان کر حیرت نہیں ہوتی کہ تاشفین ملک، جس نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر رواں ماہ کیلیفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک کیا تھا، پاکستان میں ایسے تعلیمی ادارے میں پڑھتی رہی ہے جو کہ عدم برداشت کا پیغام پھیلاتا ہے۔

"پاکستان اب بھی نفرت انگیزی کے بنیادی ڈھانچے کو برقرار رکھے ہوئے ہے، ہزاروں دیوبندی مدرسے۔۔ خلیجی ریاست کی مالی معاونت سے۔۔ عدم برداشت، نفرت انگیز بیان کی تعلیم دے رہے ہیں جو دہشت گردی کے لیے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ میں نے اس معاملے پر بات کرنے کے لیے تین بار اسلام آباد کا دورہ کیا۔ پاکستان کو ان درسگاہوں کو رجسٹر کرنے اور بنیاد پرستوں کے نئی نسل تیار کرنے والوں کو بند کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔"

رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ بعض مذہبی درسگاہوں اور اداروں سے متعلق اوباما انتظامیہ کے تحفظات بھی قانون سازوں جیسے ہیں اور ان کے بقول پاکستان یہ کہتا ہے کہ ان مسائل سے نمٹنا اس کی قومی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

XS
SM
MD
LG