رسائی کے لنکس

خیبر پختونخوا: اسلحہ نما کھلونوں، ہوائی فائرنگ پر پابندی عائد

  • شمیم شاہد

فائل

اسلحہ نما کھلونوں پر پابندی کے علاوہ صوبائی حکومت نے عید الفطر کے موقع پر ہوائی فائرنگ پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

خیبر پختونخوا کی حکومت نے عیدالفطر کے موقع پر امن و امان قائم رکھنے اور بچوں کو اسلحہ کی روایت سے دور رکھنے کے لیے پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں اسلحہ نما کھلونوں کی تیاری، خرید و فروخت اور ہوائی فائرنگ پر پابندی لگادی ہے۔

ضلعی انتظامیہ میں شامل افسران بالخصوص اسسٹنٹ اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنروں کی سربراہی میں ٹیمیں پشاور کے مختلف علاقوں میں اسلحہ نما کھلوں کی دکانوں اور گوداموں پر چھاپے مار رہی ہیں اور برآمد شدہ کھلونوں کو سرکاری تحویل میں لیا جارہا ہے۔

پشاور کے ڈپٹی کمشنر ثاقب رضا اسلم نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ دفعہ 144 کے تحت ضلع پشاور کی حدود میں کھلونا نما اسلحے، پٹاخوں اور اسی نوعیت کی دیگر اشیا پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ مذکورہ اشیا بیچنے والوں کے خلاف کارروائی میں ضلعی انتظامیہ کو پولیس کی مدد بھی حاصل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک روز قبل پشاور کے علاقے کارخانو مارکیٹ (حیات آباد) میں ایک مارکیٹ پر چھاپہ مار کر بڑی تعداد میں اسلحہ نما کھلونے اور آتش بازی کا سامنا برآمدکرکے موقع پر تلف کردیا گیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر کے بقول پشاور شہر کے مشہور تجارتی علاقے پیپل منڈی میں بھی 12 دکانوں اور گوداموں سے بڑی تعداد میں اسلحہ نما کھلونے برآمد ہوئے ہیں جنہیں ضائع کردیا گیا ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمے درج کرکے قانونی کاروائی کی جارہی ہے۔

پشاورکے علاوہ مردان، سوات، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد اور صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی حکومت نے اسلحہ نما کھلونوں اور پٹاخوں وغیرہ کی حوصلہ شکنی کے لیے دفعہ 144کے تحت ان پر پابندی لگادی ہے۔

اسلحہ نما کھلونوں پر پابندی کے علاوہ صوبائی حکومت نے عید الفطر کے موقع پر ہوائی فائرنگ پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس نے ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے لوگوں سے پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

گزشتہ ہفتے چیمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان کی فتح کی خوشی میں ہوائی فائرنگ سے پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگرشہروں اور قصبوں میں بچوں سمیت درجنوں افرادزخمی ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG