رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی ٹیرف تباہ کن ہے، جی سیون وزرائے خزانہ


کینیڈا کے وزیر خزانہ اور بینک آف کینیڈا کے گورنر پریس کانفرنس کر رہے ہیں

امریکہ کے قریبی اتحادی ملکوں کے وزرا خزانہ نے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے دھات کی درآمدی ٹیرف پر غصے اور تنقید کا اظہار کیا لیکن کینیڈا میں تین روز تک جاری رہنے والی ان کی کانفرنس بے نتیجہ رہی۔

امریکی وزیرخارجہ اسٹیون منوچن گروپ 7 کے اپنے ہم منصبوں کے اضطراب کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے جو امریکہ کی طرف سے اسٹیل کی درآمد پر 25فیصد اور ایلومینیم کی درآمد پر دس فیصد ڈیوٹی عائد کیے جانے پر نالاں تھے۔

واشنگٹن نے حال ہی میں میکسیکو، کینیڈا اور یورپی یونین پر یہ ڈیوٹی عائد کی تھی۔

کینیڈا کے وزیر خزانہ بل مورنیو نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ "ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ یہ اقدام دراصل ہماری معیشت کو مدد دینے کے لیے سازگار نہیں، یہ درحقیقت تباہ کن ہیں، اور یہ تمام چھ ملکوں کا خیال ہے اور انھوں نے منوچن کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کر دیا ہے۔"

کینیڈا کی طرف سے جاری کیے ایک بیان میں کہا گیا کہ جی سیون کے وزرا خزانہ اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ ہفتے گروپ کے سربراہ اجلاس میں ٹیرف کے معاملے پر "فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے۔"

امریکی وزیرخزانہ اسٹیون منوچن
امریکی وزیرخزانہ اسٹیون منوچن

اجلاس کے بعد علیحدہ سے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرخزانہ اسٹیون منوچن نے بتایا کہ وہ اس بیان کا حصہ نہیں تھے اور ان کے بقول ٹرمپ "ہمارے تجارتی تعلقات کو توازن" میں لانے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔

"میرا نہیں خیال کہ کسی بھِ صورت امریکہ عالمی اقتصادیات کی اپنی قیادت کو ترک کر رہا ہے۔ میرے خیال میں ہم نے امریکہ میں بہت بڑی ٹیکس اصلاحات کی ہیں جس سے امریکی معیشت پر زبردست اثرات مرتب ہوئے ہیں۔"

ہفتہ کو ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک مرتبہ پھر اپنے پیغام میں بعض امریکی تجارتی شراکت داروں سے عالمی تجارتی تنظیم کے معاہدوں کے تحت مہنگے ٹیرف استعمال کرنے کی شکایت کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG