رسائی کے لنکس

بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں پر تاجر برادری پریشان


فائل فوٹو
فائل فوٹو

حالیہ ہفتوں میں صوبے میں ایک بار پھر اغوا کی واردتیں رونما ہونا شروع ہو گئی ہیں جس سے خاص طور پر تاجر اور کاروباری برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں گو کہ اغوا برائے تاوان کی واردتیں معمول کا حصہ رہی ہیں لیکن سکیورٹی کے موثر اقدامات کے باعث اغوا سمیت دیگر منظم جرائم میں قابل ذکر کمی دیکھی جا رہی تھی۔

لیکن حالیہ ہفتوں میں صوبے میں ایک بار پھر اغوا کی واردتیں رونما ہونا شروع ہو گئی ہیں جس سے خاص طور پر تاجر اور کاروباری برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

اغوا کا تازہ واقعہ منگل کی شام کوئٹہ کے مصروف کاروباری علاقے سورج گنج بازار میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افرد شوکت خان کاکڑ نامی تاجر کو ان کی دکان سے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

پولیس نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اغوا کاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔

تاحال کسی فرد یا گروہ کی طرف سے شوکت کاکڑ کے اغوا کی ذمہ داری یا ان کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے۔

اس واقعے کے خلاف کوئٹہ شہر میں تاجروں نے احتجاج کیا اور مظاہرے کے دوران ٹائروں کا آگ لگا کر کچھ دیر کے لیے ٹریفک کو بھی معطل کیے رکھا۔

گزشتہ ہفتے ہی سرحدی شہر چمن میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر سنتوش کمار کو مسلح افراد اپنے ساتھ زبردستی لے جانا چاہ رہے تھے لیکن ان کے انکار پر مسلح افراد نے سنتوش کمار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اغوا، تاجروں کو ہدف بنا کر قتل کرنے اور بدامنی کے واقعات میں اضافے سے تاجران ایک بار پھر خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔

"آپ کو معلوم ہے کہ اغوا برائے تاوان کا بازار گرم ہے، پشین میں، چین میں مختلف ضلعوں میں، ٹارگٹ کلنگ کا یہاں بازار گرم ہے، ہمارے کوئٹہ شہر اور دیگر اضلاع میں بالکل کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے، ہماری مرکزی حکومت ہمارے اوپر بھاری ٹیکسز ڈال رہی ہے اور اس سے بھی ہم لوگ بہت پریشان ہیں۔"

صوبائی حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان و بحال رکھنے کے لیے متعدد اقدام کیے گئے ہیں جب کہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں پر قابو پانے کے لیے ایک سریع الحرکت فورس بھی تشکیلدی گئی ہے جس کی کارروائیوں سے ایسی وارداتوں پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG