رسائی کے لنکس

logo-print

مانسہرہ میں ایک خواجہ سرا کا قتل


فائل فوٹو

خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں ایک خواجہ سرا کو گولی مار کر قتل کردیا گیا جب کہ قاتل پولیس کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق مانسہرہ کے تھانہ صدر کی حدود میں منگنی کی ایک تقریب کے دروان جہاں خواجہ سرا منی اور اس کے ساتھی رقص کر رہے تھے، اس دوران ایک شخص ریاض خان کے ساتھ منی کا جھگڑا ہو گیا۔

تلخ کلامی سے بڑھنے پر ریاض خان نے طیش میں آ کر پستول نکال لیا اور خواجہ سرا کے ماتھے پر گولی مار دی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے سماجی کارکن تیمور کمال کے مطابق منی مانسہرہ میں اپنے گرو کے ساتھ رہائش پذیر تھی اور اکثر شادی بیاہ کی تقربیات میں رقص کرنے جایا کرتی تھی۔

تیمور کمال نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے قاتل موقع پر پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا جو بعد میں پولیس کے گرفت سے فرار ہو گیا۔

ایک غیر سرکاری تنظیم بلیو وینز کے اعداد و شمار کے مطابق صرف خیبر پختون خوا میں 2015 کے آغاز سے اب تک 56 خواجہ سراؤں کو قتل کیا جا چکا ہے۔

خیبر پختون خوا ٹرانس ایکشن کمیٹی کی صدر فرزانہ جان نے وائس اف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر حکومتی دعوؤں کے باوجود خیبر پختون خوا میں خواجہ سراؤں کے قتل اور تشدد کے واقعات پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ملزموں پر ایسے دفعات کے تحت مقدمات درج کرتی ہیں جن سے انہیں آسانی سے ضمانت مل جاتی ہے۔

فرزانہ نے کہا کہ اگر کسی ایک شخص کو بھی قرار واقعی سزا مل گئی ہوتی تو آئندہ کوئی بھی شخص انتہائی قدم اُٹھانے سے پہلے ضرور سوچتا۔

دوسری جانب مانسہرہ پولیس کے ایک اہل کار یاسر شاہ نے وائس اف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم ریاض کے خلاف مقدمہ درج ہو چکا ہے اور پولیس ملزم کی گرفتاری کے لئے بھر پور کوشش کررہی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ ملزم کے فرار کی خبر بے بنیاد ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG