رسائی کے لنکس

logo-print

خواجہ سراؤں کے تحفظات


’’الیٹرانک میڈیا پر ہمیں اکثر میک اپ کرتے، ناچتے، گھنگھرو پہنتے یا سیکس ورکر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس سے معاشرے میں خواجہ سراؤں کے خلاف نفرت اور حقارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘

پاکستان میں خواجہ سراوں کے حقوق کے حوالے سے آگہی اور مجوزہ قانون اور پالیسی سازوں میں میڈیا کا کلیدی کردار رہا ہے لیکن خواجہ سراوں کی زندگیوں کے متعلق بہت سے ایسے حقائق اور مسائل ہیں جو اب تک میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہیں اور جن پر توجہ دینا انتہائی ضرورری ہے۔ مگر میڈیا میں خواجہ سراؤں کو پیش کرنے کے حوالے سے ان کے تحفظات بھی پائے جاتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں موجود خواجہ سراؤں کے صوبائی اتحاد ٹرانس ایکشن کمیٹی کی صدر فرزانہ جان کے مطابق عام طور پر میڈیا میں اُن کے لئے شی میل، لیڈی بوائے یا ہجڑا کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جو ناپسندیدہ اور ہتک آمیز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مشہور صوفی بزرگ معین الدین چشتی المعروف "حضرت خواجہ غریب نواز نے پہلی دفعہ ہمارے طبقے کے لئے "خواجہ سرا" کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اس لئے اس نام میں محبت اور عزت ہے۔ لہذا ہمیں انہی الفاظ سے پکارا جائے۔

فرزانہ جان نے کہا کہ اکثر الیکٹرانک میڈیا پر انہیں میک اپ کرتے، ناچتے، گھنگھرو پہنتے یا سیکس ورکر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس سے معاشرے میں خواجہ سراؤں کے لئے پہلے سے موجود نفرت اور حقارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خواجہ سرا آرزو نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے طبقے میں ناچ گانےکے علاوہ دوسرے شعبوں سے وابستہ لوگ بھی موجود ہیں جن میں درزی، بیوٹیشن، ڈیزائنر، فلم میکر اور سرکاری ملازم ہیں جو اپنی شناخت کو چھپاتے نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں معاشرے میں ان شعبوں کی وجہ سے پہچان ملے۔

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم بلیو وینز کے پروگرام کوارڈینیٹر قمر نسیم نے اس موقع پر کہا کہ وکلا، پولیس اور ڈاکٹروں میں بھی خواجہ سرا موجود ہیں جن کی تعداد صوبے میں موجود خواجہ سراؤں کے نصف کے برابر ہے مگر معاشرتی بندشوں کی وجہ سے وہ اپنی شناخت ظاہر کرنا نہیں چاہتے۔

اس موقع پر قمر نسیم نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 1448 کے لگ بھگ خواجہ سرا ایسے ہیں جنہوں نے اپنے قومی شناختی کارڈ میں خود کو خواجہ سرا بتایا ہے۔

انتہائی کم رجسٹرڈ خواجہ سراؤں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹرانسجینڈر کے لئے وراثت کا کوئی قانون ابھی تک موجود نہیں ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے سینٹ میں ٹرانسجینڈر پروٹیکشن اینڈ رائٹس بل 2017 پیش کیا جا رہا ہے جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے منظور شدہ سفارشات شامل کی گئی ہیں۔

ان سفارشات کی رو سے خواجہ سرا مرد کو مردوں کے برابر وراثت میں حصہ ملے گا جبکہ خواجہ سرا عورت اور مخنث کو عورت جتنا حصہ ملے گا۔

قمر نسیم نے بتایا کہ خواجہ سراؤں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو پاکستانی قانون کے مطابق ریپ تصور نہیں کیا جاتا بلکہ پولیس اس پر "سیڈومی" یعنی غیر فطری جنسی عمل کا پرچہ درج کرتی ہے۔ اس نئے قانون کی منظوری کے بعد خواجہ سراوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو بھی "زنا بالجبر" تصور کر کے سزا دی جائےگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG