رسائی کے لنکس

ٹرانسپورٹرز کا فوج سے اظہار یکجہتی


ٹرانسپورٹرز کا فوج سے اظہار یکجہتی
ٹرانسپورٹرز کا فوج سے اظہار یکجہتی

آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے حکومت اور فوج سے اظہار یکجہتی کے طور پر افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے تیل کی ترسیل غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تنظیم کے صدر یوسف شاہوانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مہمند ایجنسی میں فوج کی دو سرحدی چوکیوں پر حملے اور 24 اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف ملک میں دیگر شعبوں کی طرح ٹرانسپورٹروں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے اس لیے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل نواب شیر آفریدی نے بتایا کہ نیٹو افواج کے لیے تیل لے جانے والے ٹینکروں کی تعداد 10 ہزار ہے اور ان کے بقول لگ بھگ 40 ہزار افراد کا براہ راست روزگار اس سے وابستہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بین الاقوامی افواج کے لیے تقریباً ایک دہائی سے پاکستان کے راستے سپلائی جاری ہے لیکن نیٹو کے اس حملے کے خلاف ’’ہم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔‘‘

تنظیم کے عہدیداروں کے مطابق روزانہ لگ بھگ 250 آئل ٹینکر نیٹو افواج کے لیے تیل افغانستان لے کر جاتے ہیں۔ ان میں سے 30 فیصد بلوچستان کے سرحدی راستے چمن جب کہ 70 فیصد قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے طورخم بارڈ سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔

آل پاکستان ٹینکرز ایسوسی ایشن کے صدر یوسف شاہوانی کا دعویٰ ہے کہ حالیہ برسوں میں شدت پسندوں کے حملے میں 1000 آئل ٹینکروں کو جلایا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ابھی سینکڑوں آئل ٹینکر چمن اور طورخم بارڈ پر کھڑے ہیں اور عہدیداروں کے بقول مناسب حفاظتی اقدامات نا ہونے کی وجہ سے عسکریت پسند بڑی تخریبی کارروائی کر کے تیل سے بھرے ان ٹینکروں کو تباہ کر سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG