رسائی کے لنکس

امریکہ: غیر معینہ مدت کے لیے سفری پابندیوں کے نئے ضابطے


رچمنڈ میں سفری پابندیوں کے خلاف مظاہرہ، فائل فوٹو

اتوار کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندی کے نئے ضابطوں کے اجرا کے بعد امریکی سپریم کورٹ نے سابقہ پابندی کے ان کے ضابطے اکتوبر کے اپنے عدالتی کاغذات سے خارج کر دیے ہیں۔

ان نئے ضابطوں میں جو ایسے میں جاری ہوئے ہیں جب ابتدائی سفری پابندی کی مدت ختم ہو رہی تھی متاثرہ ملکوں کی فہرست میں توسیع کی گئی ہے ۔ اور اس بار پابندیوں کی مدت ختم نہیں ہو گی بلکہ غیر معینہ مدت کے لیے جاری رہ سکتی ہے۔

جیسا کہ وسیع پیمانے پر توقع کی جارہی تھی، سفر کی نئی پابندیاں کسی مخصوص ملک کی طرف سے ادراک کیے گئے انفرادی خطرات کو ہدف بناتی ہیں۔

یہ نئے ضابطے خصوصي طور پر چاڈ، لیبیا اور یمن سے بزنس، سیاحتی یا بزنس اور سیاحتی ویزوں کے تحت امریکہ آنے والے تارکین وطن اور غیر تارکین وطن افراد کا داخلہ عارضی طور پر بند کرتے ہیں ۔ایرانی شہریوں کا داخلہ مسدود کر تے ہیں لیکن ایرانی طالب علموں کو اضافی چھان بین کے بعد ایک استثنا فراہم کرتے ہیں۔ شمالی کوریا اور شام سے آنے والے تارکین وطن اور ملنے جلنے یا سیر کے لیے آنے والے لوگوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کرتے ہیں، صومالیہ کے شہریوں کی امیگریشن روکتے ہیں اور سیر کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے اضافی چھان بین لازمی قرار دیتے ہیں ۔اور سوڈان کو اس فہرست سے خارج کرتے ہیں۔

پیر کےروز جار ج ٹاؤن یونیورسٹی میں امیگریشن کے قانون سے متعلق ایک کانفرنس میں سفری پابندی گفتگو کا ایک گرما گرم موضوع تھی ۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انہیں امریکہ کی سیکیورٹی کو تحفظ دینے کے لیے اقدام کرنے چاہیں تاہم کچھ لوگ صدر کے محرکات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

امریکہ کے لیے میکسیکو کے سابق سفیر ارٹورو ساروکان کہتے ہیں کہ دنیا میں ایسے حقیقی خطرات ہیں اور ایسے افراد ہیں جن پر ہمیں نظر رکھنی چاہیے لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کبھی کبھی اس قسم کے مسائل آبائی مکینوں کو ہر صورت فوقیت دینے اور غیر ملکیوں سے نفرت کے وسیع تر تناظر میں پیش آتے ہیں ۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو کبھی کبھی یہ تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا وہ قومی سلامتی کے تحت پیش آئے ہیں یا ان کے پس پشت کچھ دوسرے محرکات بھی کار فرما ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ نئی پابندیاں اس وقت تک نافذ رہیں گی جب تک اس کے دائرے میں آنے والے ملک سیکیورٹی کی اپنی سکریننگ بہتر نہیں کر لیتے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہوکبی کہتی ہیں کہ یہ سفری پابندی جس طریقے سے نافذ کی گئی ہے اس کے تحت ملکوں کو ایک کم سے کم بنیادی تقاضا پورا کرنا ہو گا اور معلومات کے تبادلے کا حصہ بھی بننا ہو گا۔

ان ضابطوں پر حکومت کو گاہے گاہے نظر ثانی کرنا ہو گی اور انہیں اگر سپریم کورٹ کی سطح پر نہیں تو عدالت میں ضرور چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ ٹرمپ کے ایکزیکٹو آرڈر کی قانونی حیثیت کے بارے میں دلائل کی سماعت کے لیے تیار تھی لیکن نظر ثانی شدہ حکم نامہ زیریں عدالتوں سے شروع ہونے والے کسی نئے مقدمے کی اجازت دے سکتا ہے۔

کیتھولک لیگل امیگریشن کی ا ایکزیکٹو ڈائریکٹر جینی ایم ایٹکن سن کہتی ہیں کہ اب جب کہ سفری پاپندی تبدیل ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ میں جو کچھ ہو گا میرا خیال ہے وہ یہ کہ اگر آپ آج ادھر ادھر نظر ڈالیں اور لوگوں کی باتیں سنیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ ہر قسم کی آرا سامنے آرہی ہیں ۔ سفری پابندی میں تبدیلیوں ں کی وجہ سے، یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے، کیوں کہ اس کے تمام فریق اس سے لازمی طور پر چھٹکارہ چاہتے ہیں ۔ یہ ایک نئی پابندی ہے، ا س لئے ا س کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے گا۔

اسی دوران پرانی پابندیوں کے جس حصے کی مدت ختم ہو رہی تھی اسے نئے سرے سے نافذ کر دیا گیا ہے اور نئے توسیع شدہ سفری ضابطے 18 اکتوبر سے نافذ ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG