رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: مرسی کے احتجاج کے بعد عدالتی کاروائی ملتوی


برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق 62 سالہ معزول صدر اور ان کے ساتھیوں نے عدالت میں پیش ہونے پر اپنے ہاتھوں سے 'رابعہ' کا نشان بنایا

مصر میں پانچ ماہ قبل فوج کے ہاتھوں معزول ہونے والے صدر محمد مرسی کو حکام نے پہلی بار پیر کو عدالت کے سامنے پیش کیا لیکن معزول صدر کے خلاف عدالتی کاروائی بمشکل چند منٹ ہی جاری رہ سکی۔

رواں برس تین جولائی کو ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد سے محمد مرسی فوج کی تحویل میں تھے جنہیں پیر کو پہلی بار دارالحکومت قاہرہ کی ایک عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔

حکام نے محمد مرسی کے ہمراہ ان کی جماعت 'اخوان المسلمون' کے 14 دیگر رہنماؤں کو بھی عدالت میں پیش کیا جن پر الزام ہے کہ انہوں نے سابق صدر کے دورِ اقتدار میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہرین کے قتل کے احکامات جاری کیے تھے۔

الزام ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو سزائے موت کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

تاہم عدالت کے جج کو مقدمے کی کاروائی شروع ہونے کے فوراً ہی بعد اس وقت ملتوی کرنا پڑی جب معزول صدر اور ان کے ساتھیوں نے کمرۂ عدالت میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاجاً نعرے بازی شروع کردی۔

کمرہ عدالت میں موجود افراد کے مطابق محمد مرسی نے اپنے خلاف مقدمات کو مسترد کرتے ہوئے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی مصر کے قانونی صدر ہیں۔

مصر کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق احتجاج کے بعد عدالت کے جج نے معزول صدر اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمات کی سماعت آٹھ جنوری تک ملتوی کردی ہے۔

اس سے قبل معزول صدر کی جانب سے ملزمان کے لیے مخصوص روایتی سفید لباس پہننے سے انکار پر عدالتی کاروائی کا آغاز تاخیر کا شکار ہوگیا تھا۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر معزول صدر نے سیاہ لباس زیبِ تن کر رکھا تھا اور انہیں ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں نامعلوم مقام سے قاہرہ کی پولیس اکیڈمی میں قائم عدالت لایا گیا۔

خیال رہے کہ حکام نے معزول صدر کے خلاف مقدمے کی سماعت آغاز سے چند لمحے قبل قاہرہ کے نواح میں واقع اس پولیس اکیڈمی منتقل کردی تھی جہاں اس سے قبل سابق فوجی صدر اور محمد مرسی کے پیش رو حسنی مبارک کے خلاف بھی مقدمات کی سماعت ہوتی رہی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق 62 سالہ معزول صدر اور ان کے ساتھیوں نے عدالت میں پیش ہونے پر اپنے ہاتھوں سے 'رابعہ' کا نشان بنایا جسے اخوان کے حامی ان سیکڑوں لوگوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی علامت قرار دیتے ہیں جو اگست میں قاہرہ کے ایک احتجاجی کیمپ پر مصری سکیورٹی اہلکاروں کے حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

سابق صدر کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر قاہر ہ بھر میں سکیورٹی انتہائی سخت تھی اور محمد مرسی کے حامیوں کے مظاہروں اور احتجاج سے نبٹنے کے لیے وزارتِ داخلہ نے شہر میں 20 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے تھے۔

لیکن سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کے باوجود معزول صدر اور اخوان کے دیگر رہنماؤں کے خلاف پیر کو مقدمے کی سماعت کے موقع پر فوجی بغاوت کے خلاف قائم ہونے والے سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی اپیل پر مصر بھر میں بڑے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

قاہرہ میں بھی ہزاروں مظاہرین عدالتی عمارتوں کے سامنے جمع ہوئے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جب کہ اخوان کے سیکروں حامیوں نے اس پولیس اکیڈمی کے سامنے بھی احتجاج کیا جہاں معزول صدر کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے فوج کی حمایت یافتہ مصر کی عبوری حکومت کی جانب سے ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت 'اخوان المسلمون' کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے جس میں اب تک اخوان کے ایک ہزار سے زائد حامی ہلاک ہوچکے ہیں۔

سکیورٹی اداروں نے اخوان کے تمام اہم رہنماؤں اور سرکردہ کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے لیکن اخوان کی قیادت نے محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG