رسائی کے لنکس

logo-print

وانا: کرفیو برقرار، انتظامیہ اور قبائلی رہنماؤں کے مذاکرات جاری


انتظامیہ نے وانا بازار کی سکیورٹی احمد زئی وزیر قبائل اور فرنٹیر کور کے حوالے کرنے کی تجویز دی ہے (فائل فوٹو)

وانا میں ہر قسم کے ٹیلی فون اور مواصلاتی سروس معطل ہے اور علاقے کا باقی ملک سے رابطہ کٹا ہوا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے مرکزی قصبے وانا میں اتوار کو پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) اور حکومت کے حامی عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے جھڑپوں کے بعد نافذ کیا جانے والا کرفیو منگل کو مسلسل تیسرے روز بھی جاری ہے۔

وانا میں ہر قسم کے ٹیلی فون اور مواصلاتی سروس معطل ہے اور علاقے کا باقی ملک سے رابطہ کٹا ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر ٹانک میں جہاں پر جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ کے دفاتر قائم ہیں، منگل کی صبح پہنچنے والی اطلاعات کے مطابق انتظامیہ نے فی الوقت وانا کے بازاروں کی سکیورٹی احمد زئی وزیر قبیلے کے 120 رکنی جرگے اور فرنٹیر کور کے حوالے کرنے کی تجویز دی ہے مگر ابھی تک اس تجویز کو عملی شکل نہیں دی جاسکی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ بازار کے سکیورٹی انتظام کے بعد حکام وانا میں تین روز سے جاری کرفیو اٹھائیں گے۔

دریں اثنا جرگے کے ارکان اور انتظامیہ کے درمیان کرفیو اٹھانے کے بارے میں بات چیت بھی جاری ہے اور انتظامیہ نے سابق طالبان عسکریت پسندوں کے بازار آنے پر پابندی لگادی ہے۔

اتوار کو جھڑپوں کا آغاز امن کمیٹی کے جنگجووں کی جانب سے پی ٹی ایم کے ایک مقامی رہنما کے گھر کا محاصرہ کرنے اور اس پر مقامی قبائل کی جوابی کارروائی سے ہوا تھا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اتوار کو ہونے والے تصادم سے قبل مارچ 2007ء کے ایک معاہدے کے تحت وانا بازار کے سکیورٹی کا انتظام سابق عسکریت پسندوں پر مشتمل امن کمیٹی کے سپرد تھا۔

تاہم اتوار کو ہونے والی جھڑپ کے بعد مقامی قبائل نے نہ صرف امن کمیٹی میں شامل عسکریت پسندوں کو شہر سے بھگادیا ہے بلکہ ان کے کمانڈر عین اللہ کے گھر، دفاتر اور چوکیوں کو بھی نذرِ آتش کردیا گیا ہے۔

ادھر وانا میں ہونے والے تصادم کے خلاف پیر کی شب ڈیرہ اسماعیل خان میں رہائش پذیر جنوبی و شمالی وزیرستان کے قبائلیوں کاجرگہ ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جنوبی وزیرستان میں حالات کومعمول پرلانے اور قبائلیوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے عیدالفطر کے بعد وانا میں احمدزئی وزیر، اتمان زئی وزیر، دوتانی، سلیمان خیل، داوڑ اور دیگر قبائل کا ایک بڑا جرگہ ہوگا جس کے بعد مطالبات کی منظوری تک پرامن دھرنا دیا جائے گا۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاوہ پشاور، باجوڑ، سوات، بنوں اور صوبے کے دیگرشہروں اور قصبوں میں بھی پختون تحفظ تحریک کے کارکنوں اور رہنمائوں نے جنوبی وزیرستان واقعے کے خلاف پیر کو احتجاجی مظاہرے کیے۔

مظاہرین نے وانا واقعے کے بارے میں حکام کے موقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے علاقے میں سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

وانامیں ہونے والی جھڑپ اور ایک روز قبل فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کے اس بیان پر کہ پشتون تحفظ تحریک کو ملک دشمن طاقتیں استعمال کر رہی ہیں، پی ٹی ایم کے رہنماؤں نے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

تاہم اتوار کی جھڑپ کے بعد منظور پشتین نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں واقعے کا الزام طالبان پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حکومت اور سکیورٹی فورسز کی سرپرستی حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG