رسائی کے لنکس

logo-print

پولیس افسرکی بازیابی کیلئے اسلام آباد میں دھرنے کا فیصلہ


شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پشاور کے پولیس افسر طاہر خان داوڑ کی فوری اور بحفاظت بازیابی کیلئے اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم احتجاجی دھرنے کی تاریخوں کا اعلان آئندہ چند روز میں کیا جائے گا۔

دھرنے کا فیصلہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنماوئوں، اکابرین، افسران،سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوؤں اور طلباء کے جرگے میں کیا گیا ۔

اتوار کو پشاور کے علاقے حیات آباد میں ہونے والے جرگے کا انعقاد ،داوڑ قومی جرگے نے کیا تاہم جرگے میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے احمد زئی اور اتمان زئی وزیر اور دیگر قبیلوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی شرکت کی۔

داوڑ قومی جرگے کے سربراہ سمیع اللہ داوڑ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُصولی طور پر اغوا شدہ پولیس افسر کی فوری اور بحفاظت بازیابی کیلئے اسلام آباد اور پشاور میں بیک وقت احتجاجی دھرنا شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے دو مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ دونوں کمیٹیوں میں شامل ممبران کا اجلاس پیر اور منگل کو ہوگا۔ انتظامی اور مالی اخراجات کے مکمل ہونے پر احتجاجی دھرنا باقاعدہ طور پر شروع کیا جائے گا۔

سمیع اللہ داوڑ نے کہا کہ جرگے میں شامل تمام شرکاء نے متفقہ طور پر وفاقی حکومت سے اغواء ہونے والے پولیس افسر کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

پشاور پولیس کے عہدیدار طاہر داوڑ کو 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا تھا۔ اغوا کئے جانے کے ایک روز بعد طاہر داوڑ نے نامعلوم مقام سے گھر والوں سے رابطہ کیا تھا جس میں انہوں نے جلد واپس آنے کا یقین دلایا تھا۔

XS
SM
MD
LG