رسائی کے لنکس

logo-print

مذاکرات کے بعد قبائلی تاجروں کا احتجاج ختم


شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے سول اور فوجی حکام سے مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں جاری اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

گزشتہ چار روز سے شمالی وزیرستان سے آئے ان افراد نے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا رکھا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن سے ان کے کاروبار کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔

جمعہ کو دیر گئے مظاہرین کے راہنماؤں نے فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور سے ملاقات کی جس کے بعد ترجمان نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ فوج اور سول انتظامیہ اور فاٹا سیکریٹریٹ کے نمائندے شمالی وزیرستان کے ان تاجروں سے ملاقات کریں گے اور تمام معاملات کے حل پر بات کریں گے۔

مظاہرے میں شامل ایک سرکرہ قبائلی تاجر عبدالرؤف نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ احتجاج کرنے والوں سے حکومتی نمائندوں نے بھی ملاقاتیں کیں اور ان کے مطالبات کے حل کی یقین دہانی کروائی۔

"ہمارے مذاکرات ہو گئے ہیں ایک ہفتے کے اندر اندر وزیرستان میں ایک ٹیم بنائیں گے ایک کمیٹی بنے گی جو اس نقصان کا تخمینہ لگائے گی اور ہمارے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔۔۔ہم جمہوری لوگ ہیں ہمارا ایک ہی مطالبہ تھا کہ جو ہمارے نقصانات ہو چکے ہیں ہم کاروبار کے قابل نہیں تھے اور ہم یقین کرتے ہیں کہ یہ ذمہ دار لوگوں نے ہمارے ساتھ بات کی ہے اور ذمہ دار لوگ غلط بات نہیں کرتے۔"

قبل ازیں ان تاجروں کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے نقصانات کے ازالے کے لیے نہ صرف وزیرستان بلکہ خیبر پختونخواہ میں بھی احتجاج کیا تھا لیکن ان کی شنوائی نہیں اور مجبور ہو کر انھوں نے وفاقی دارالحکومت کا رخ کیا۔

جون 2014ء میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف ضرب عضب کے عنوان سے بھرپور کارروائی شروع کی تھی اور حکام کے بقول اس کارروائی کے نتیجے میں تمام عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا اور اب علاقے میں بحالی و تعمیر نو کا کام جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG