رسائی کے لنکس

یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کے لیے ٹرمپ کی عالمی رہنماوں سے مشاورت


پرانے یروشلم کا ایک منظر جس میں بیت المقدس نظر آ رہا ہے جو مسلمانوں کے لیے الحرم الشریف ہے اور یہودی مذہب کے پیروکار اسے اپنے لیے سب سے مقدس عبادت گاہ سمجھتے ہیں۔ 25 اکتوبر 2015

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے اور وہاں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کے لئے مسلم اور مختلف عالمی رہنماوں سے مشاورت کی ہے تاہم انھیں سخت عالمی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین کے صدر محمود عباس کو منگل کو ٹیلی فون کیا اور انھیں اپنے منصوبے سے آگاہ کیا، محمود عباس کے ترجمان کے مطابق فلسطینی صدر نے امریکہ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور واضح کیا کہ امریکہ کے اس فیصلے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

بعد میں صدر محمود عباس نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف عالمی رہنماوں سے مدد طلب کرلی، انھوں نے روس اور فرانس کے صدور اور پوپ فرانسس کو براہ راست ٹیلی فون پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو اپنے فیصلے پر عمل کرنے سے باز رکھنے کے لئے مدد کی اپیل کی۔

محمود عباس کی اپیل پر فرانسسی صدر مینوئیل میکرون نے صدر ٹرمپ کو ٹیلی فون کیا اور انھیں بیت المقدس کو اسرائیل کا دالحکومت تسلیم کرنے کے مضمرات سے آگاہ کیا۔

یورپی یونین نے بھی صدر ٹرمپ کو متنبہ کیا ہے کہ سفارتخانہ کی منتقلی سے دنیا کے بڑے حصے میں عام عقیدت مندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے اردن کے شاہ عبداللہ کو بھی ٹیلی فون کیا اور اپنے منصوبے سے آگاہ کیا جواب میں انھوں نے بھی متنبہ کیا کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ شاہ اردن کا کہنا تھا کہ امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی سے مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کو صدمہ پہنچے گا۔

عرب لیگ نے بھی امریکی سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا ہے۔

ترکی نے بھی اس امریکی منصوبے کی سخت مخالفت کی ہے، ترک صدر طیب اردوان نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کیا گیا تو ترکی اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرلے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تعلقات چھ سال کے تعطل کے بعد ابھی ایک سال پہلے ہی بحال ہوئے تھے

سعودی عرب نے بھی صدر ٹرمپ کے فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مشرق وسطی میں قیام امن کی کوششوں کے لئے ایک دھچکہ قراردیا۔

بیت المقدس تینوں بڑے مذاہب اسلام، عیسایت اور یہودیوں کے لئے مقدس مقام ہے۔ اسرائیل ہمیشہ اس شہر کو دارالحکومت کا درجہ دیتا ہے جبکہ فلسطینی بیت المقدس کو مستقبل کی فلسطین کا دارلحکومت بنانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اطلاعات ایوب کارا نے یقین کا اظہار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیل کے حق میں فیصلہ کریں گے اور امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اپنے فیصلے پر عمل کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG