رسائی کے لنکس

logo-print

سی این این کے رپورٹر جم اکوسٹا کا وائٹ ہاؤس میں داخلہ بند


وائٹ ہاؤس کی ایک انٹرن، سی این این کے رپورٹر جم اکوسٹا سے مائیکروفون لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ 7 نومبر 2018

وسط مدتی انتخابات سے متعلق وائٹ ہاؤس میں بدھ کے روز پریس کانفرنس کے دوران صدرٹرمپ کے ساتھ تلخ سوال جواب کے نتیجے میں وائٹ ہاؤس کے لیے سی این این کے چیف رپورٹر جم اکوسٹا کا پریس کارڈ معطل کر کے وائٹ ہاؤس میں ان کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔

اکوسٹا نے بدھ کی رات اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ جب انہوں نے وائٹ ہاؤس میں جانے کی کوشش کی تو سیکرٹ سروس کے ایک ایجنٹ نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔

اپنی ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ میں انہیں الزام نہیں دیتا کیونکہ وہ اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔

پریس سیکرٹری سارا سینڈرز نے اس واقعہ کے بعد ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا سی این این کے رپورٹر کا پاس معطل کر دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے بدھ کے روز نیوز کانفرنس کے دوران مائیکروفون مسلسل اپنے پاس رکھنے کی کوشش کی تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اکوسٹا نے اس نوجوان خاتون کا، جو وائٹ ہاؤس میں انٹرن کے طور پر کام کرتی ہیں، ہاتھ جھٹک دیا، جب انہوں نے اکوسٹا سے مائیکروفون واپس لینے کی کوشش کی۔

پریس سیکرٹری کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جم اکوسٹا کا یہ طرز عمل انتہائی ناقابل قبول ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رپورٹر کا طرز عمل اپنے ساتھی رپورٹرز کی جانب بدتہذیبی کے مترادف تھا کیونکہ وہ انہیں صدر سے سوال کرنے کا موقع نہیں دے رہے تھے۔

دوسری جانب سی این این نے ٹوئیٹر پر شائع کیے جانے والے اپنے ایک بیان میں سینڈرز کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اکوسٹا کا پریس کارڈ معطل کرنے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سی این این کا کہنا ہے کہ اکوسٹا کا پریس کارڈ پریس کانفرنس کے دوران ان کی جانب سے سخت سوال پوچھنے پر معطل کیا گیا۔

سی این این کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پریس سیکرٹری سارا سینڈرز نے جھوٹ بولا۔ بیان میں وائٹ ہاؤس میں رپورٹر کے داخلے پر پابندی کو ایک ایسا واقعہ قرار دیا گیا ہے جس کی اس سے پہلے کوئی نظیر موجود نہیں ہے اور یہ واقعہ ہماری جمہوریت کے لیے ایک خطرہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم جم اکوسٹا کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

بدھ کی رات سی این این سے بات کرتے ہوئے اکوسٹا نے کہا کہ میں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا کہ اس ملک میں، میں امریکہ کے صدر کی محض اس وجہ سے کوریج نہیں کر سکوں گا کیونکہ میں نے ان سے سوال پوچھنے کی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس جھوٹ بول رہا ہے۔ انہوں نے اپنی حمایت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی تنظیم نے بدھ کو رات گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے پر سخت معترض ہیں کہ انہوں نے مشکل سوالات پر ایک رپورٹر کو سزا دینے کے لیے سیکرٹ سروس کے جاری کردہ داخلے کے پاس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا کہ وہ اس کمزور اور غلط اقدام کو فوراً واپس لے۔

اس سے پہلے بدھ کی نیوز کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے اکوسٹا کو اس وقت ایک اکھڑ اور خوف ناک شخص قرار دیا جب انہوں نے صدر سے سوال پوچھنے کی کوشش کی۔

یہ تنازع اکوسٹا کی جانب سے وسطی امریکہ کے ان چار ہزار تارکین وطن کے قافلے سے متعلق سوال پر شروع ہوا جسے ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد پر روکنے کا حکم دیا ہے۔

ٹرمپ نے سوال کا جواب دینے کی بجائے دوسرے رپورٹر سے کہا کہ وہ سوال پوچھے۔ مگر اکوسٹا نے سوال پوچھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس پر ٹرمپ نے ان سے اپنا مائیکروفون رکھنے کو کہا اور جب وائٹ ہاوس کی ایک انٹرن نے ان سے مائیکروفون چھیننے کی کوشش کی تو اکوسٹا نے کچھ مزاحمت کے بعد مائیک انہیں دے دیا۔

ایم ایس این بی سی نے اس موقع پر ٹویٹ کیا۔

تکرار بڑھنے پر ٹرمپ نے کہا کہ سی این این کو اس پر شرم آنی چاہیے کہ آپ اس کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تم ایک اکھڑ مزاج اور وحشت ناک شخص ہو۔ تمہیں سی این این کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہیے۔

پریس سیکرٹری نے اکوسٹا سے مائیکروفون واپس لینے کے لمحے کی ویڈیو پریس کے لیے جاری ہے۔ اس ویڈیو پر واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ حکومت کی ویڈیو میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اکوسٹا ان سے مائیکروفون لینے والی خاتون کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے اپنا سوال جاری رکھتے ہیں جب کہ اصل ویڈیو میں وہ خاتون کا ہاتھ ہٹانے کی بجائے مائیکروفون والا اپنا ہاتھ پرے لے جاتے ہیں۔ اخبار کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ ویڈیو کو اس طرح سے ایڈٹ کیا ہے جس سے دیکھنے والوں کی نظروں کو دھوکہ دیا جا سکے۔ اخبار کے مطابق یہ ایڈٹنگ سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے کی گئی۔ اخبار نے اپنی ویب سائٹ پر دونوں ویڈیوز جاری کیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG