رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ ٹرانس پیسیفک تجارتی معاہدے سے 'الگ ہو جائے گا': ٹرمپ


ٹرمپ نے مذاکرات سے متعلق اپنی صلاحیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے معاہدے کریں گے جو امریکہ کے مفاد میں ہوں گے۔

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ صدر کا دفتر سنبھالنے کے بعد پہلے روز ہی امریکہ کی ٹرانس پیسیفک تجارتی معاہدے (ٹی پی پی) سے علیحدگی کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کریں گے۔

یہ بات انھوں نے پیر کو "یوٹیوب" پر اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہی جس مں انھوں نے بطور صدر اپنے پہلے 100 دنوں کے لیے ایجنڈے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک سادہ اصول یعنی "امریکہ مقدم" پر مبنی ہو گا۔

ٹرمپ نے ٹی پی پی کو امریکہ کے لیے ایک "واضح نقصان" قرار دیا۔

"اس کی بجائے ہم منصفانہ، دوطرفہ تجارتی معاہدے کریں گے جو کہ صنعت کو دوبارہ امریکہ میں واپس لاتے ہوئے روزگار فراہم کریں گے۔"

اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کھل کر ٹی پی پی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اس معاہدے میں ایشیا بحرالکاہل خطے کے 12 ممالک کے علاوہ شمالی امریکہ کا کینیڈا اور میکسیکو سے آزادانہ تجارت کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

ٹرمپ نے مذاکرات سے متعلق اپنی صلاحیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے معاہدے کریں گے جو امریکہ کے مفاد میں ہوں گے۔

صدر براک اوباما ٹی پی پی کے حامی رہے ہیں لیکن کانگریس نے کبھی بھی اس شراکت داری میں امریکہ کو باضابطہ طور پر شریک ہونے کی اجازت نہیں دی۔

وڈیو میں ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے انتقال اقتدار کے لیے اپنی ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ایسے انتظامی احکامات کی فہرست مرتب کریں کہ جن پر وہ دفتر میں پہلے کارروائی کریں۔ ان کے بقول یہ اقدام "ہمارے قوانین اور ملازمتوں کو بحال کریں گے۔"

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "چاہے کہ اسٹیل سازی ہو، کاریں تیار کرنا ہو یا امراض کا علاج، میں یہ سب کچھ یہاں وقوع پذیر کرنا چاہتا ہوں۔"

ان کے بقول امریکی بنیادی ڈھانچے کو سائبر حملوں سے بچانے کے لیے پینٹاگان سے جامع منصوبہ تیار کرنے کا کہا جائے گا۔

اپنے اس پیغام میں انھوں نے میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار بنانے کے اپنے موقف پر کوئی بات نہیں کی تاہم انھوں نے کہا کہ وہ محکمہ محنت کو "ہدایت کریں گے کہ وہ ان تمام ویزہ پروگرامز کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے جس سے امریکی کارکن متاثر ہوئے۔"

انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ "توانائی کے شعبے میں روزگار کش اقدام کو منسوخ کر دیں گے۔"

XS
SM
MD
LG