رسائی کے لنکس

ٹرمپ کی بیجنگ آمد، تجارت اور شمالی کوریا ایجنڈا پر سرفہرست


بیجنگ

وائٹ ہاؤس کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ صدر اس بات کے خواہاں ہیں کہ چین پر زور ڈالیں کہ وہ اپنے قریبی اتحادی اور چوٹی کے تجارتی ساتھی، شمالی کوریا پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ وہ اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے

ڈونالڈ ٹرمپ بدھ کے روز بیجنگ پہنچے، جو امریکی صدر کے طور پر یہ اُن کا پہلا دورہ ہے۔ یہ کوشش کرتے ہوئے کہ امریکہ میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع یقینی بنائے جائیں، وہ چین کے بارے میں اکثر منفی باتیں کہتے رہے ہیں۔

اُن کے دورے میں، تجارت ایجنڈا کا اہم موضوع ہے، لیکن شمالی کوریا کا معاملہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔

وائٹ ہاؤس کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ صدر اس بات کے خواہاں ہیں کہ چین پر زور ڈالیں کہ وہ اپنے قریبی اتحادی اور چوٹی کے تجارتی ساتھی، شمالی کوریا پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ وہ اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے۔ بیجنگ آمد سے کچھ ہی گھنٹے قبل سیئول میں تقریر کرتے ہوئے، شمالی کوریا کا معاملہ ہی اُن کا موضوع رہا۔

صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے شمالی کوریا کو سخت پیغام بھیجا، جس کے لیڈر کم جونگ اُن پر زور دیا گیا کہ ’’بہتر راستے‘‘ پر گامزن کے لیے پہلا قدم یہ ہوگا کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار تلف کر دیں۔

ٹرمپ نے شمالی کوریا کو متنبہ کیا کہ ’’ہمارے بارے میں غلط اندازہ نہ لگاؤ، ہمیں آزمائش میں نہ ڈالو۔ ہم اپنی مشترکہ سکیورٹی، اپنی مشترکہ خوش حالی اور اپنی مقدس آزادی کا دفاع کریں گے‘‘۔

صدر کے الفاظ کی حمایت میں امریکہ کے تین لڑاکا طیارہ بردار بحری جہاز اور جوہری آبدوزیں تعینات ہیں، جن کے لیے صدر نے کہا ہے کہ یہ جزیرہ نما کوریا کے قریب ’’حکمت عملی کے حامل مقامات پر موجود ہیں‘‘۔

امریکی صدر نے شمالی کوریا کو ’’مکمل طور پر ناکام‘‘ قرار دیا۔ اور، کہا کہ بگاڑ کی شکار حکومت کی حکمرانی ایک غلط سوچ رکھنے والا مطلق العنان کر رہا ہے، جس نے اپنے ہی عوام کو غلام بنا رکھا ہے۔

یہ بات یقینی ہے کہ سخت الفاظ کا استعمال شمالی کوریا کو اشتعال میں لاسکتا ہے، جس کی جانب سے سخت بیان بازی کا امکان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG