رسائی کے لنکس

logo-print

عہدہٴ صدارت کی حلف برداری سے ایک روز قبل، تقریبات کا آغاز


امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جمعرات کے دِن واشنگٹن پہنچے، جس سے ایک ہی روز بعد کانگریس کی عمارت کے سائے تلے وہ ملک کے پینتالیسویں انتظامی سربراہ کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔

ایک ٹوئٹر بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ اور میں سخت محنت اور جدوجہد کے ساتھ، امریکی عوام کی بہتری کے لیے، اِسے ایک عظم سفر بناؤں گا‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’اس بات میں مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم مل کر امریکہ کو پھر سے ایک عظم ملک بنائیں گے‘‘، جو انتخابی مہم کے دوران اُن کا مشہور نعرہ ہوا کرتا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے آئندہ کے پریس سکریٹری، شان اسپائسر نے کہا ہے کہ منتخب صدر اپنے افتتاحی خطاب کو تحریر کر رہے ہیں اور اس میں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ خطاب ’’انتہائی ذاتی نوعیت کا ہوگا، جو امریکہ کے بارے میں اُن کا نصب العین ہے‘‘۔

سپائسر نے کہا کہ ٹرمپ کا خطاب ’’اُن چیلنجوں کی نشاندہی کرے گا، جو ہمیں درپیش ہیں‘‘، جس میں فلسفے کی نوعیت کا بیان ہوگا آیا وہ قومی حکومت کو کس سطح تک اونچا لے جانا چاہتے ہیں۔ تاہم، اِس میں قانونی ایجنڈا کا ذکر نہیں ہوگا۔

ترجمان نے کہا کہ آئندہ چند روز کے دوران، جن میں جمعے کا دِن بھی شامل ہے، ٹرمپ انتظامی احکامات پر دستخط کریں گے، جن میں ’’اصل تبدیلی پر مبنی ایجنڈا‘‘ شامل ہوگا، جب کہ وہ اُن شعبہ جات سے متعلق نکات کو درج کر رہے ہیں کہ اُنھیں کس ترجیح کے ساتھ ضبط تحریر میں لایا جائے‘‘۔

عین ممکن ہے کہ ٹرمپ فوری طور پر سبک دوش ہونے والے صدر براک اوباما کے اقدامات کو الٹ دیں، جن سے وہ اتفاق نہیں کرتے۔

منتخب نائب صدر مائیک پینس نے کہا کہ وہ اور ٹرمپ ’’پہلے ہی روز امریکی عوام کی خدمت کے لیے تیار ہوں گے‘‘۔

اُنھوں نے عبوری دور کے دوران تعاون پر سبک دوش ہونے والے صدر براک اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن کا شکریہ ادا کیا۔

پینس نے کہا کہ جارجیا کے سابق گورنر، سونی پرڈو کی بطور وزیر زراعت نامزدگی کے بعد، کابینہ کے تمام 21 عہدوں کے لیے نامزدگی کی جا چکی ہے؛ جب کہ عبوری دور میں مدد کی فراہمی کے لیے مختلف سرکاری اداروں میں 536 اہل کار تعینات کیے جا چکے ہیں، جب نئی انتظامیہ پیر سے اپنا کام شروع کرے گی۔

اسپائسر نے کہا کہ اوباما کی حکومت سے وابستہ 50 اہل کاروں نے نئی انتظامیہ میں کام کی انجام دہی کے لیے رُکنے کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔


منتخب نائب صدر نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ’’پہلے دِن، 100 دِنوں اور 200دِنوں‘‘ کے لیے نتائج برآمد کرنے کے لیے ضروری بندوبست کیا گیا ہے۔


پینس نے کہا کہ نئی انتظامیہ کے کام میں دلچسپی بڑھی ہے، جب کہ عہدوں پر تقرری کے لیے کُل 86000 افراد نے درخواست دی تھی۔

بعدازاں، پینس کے ہمراہ، ٹرمپ نے آرلنگٹن نیشنل سمیٹری میں پھولوں کی چادر چڑھائی، جہاں 400000 سے زائد سابق فوجیوں اور اُن کے اہل خانہ کی قبریں ہیں۔

وہاں سے، جائیداد کے ارب پتی کاروباری کی آمد نیشنل مال پر واقع لنکن میموریل پر ہوئی جہاں، میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ منتخب صدر محفلِ موسیقی میں شریک ہوئے۔ اس کے بعد، آتشبازی کا شاندار مظاہرہ ہوا۔


ٹرمپ اور پینس کے علاوہ نئے انتظامیہ کے دیگر کلیدی اہل کار ایک ’کینڈل لائٹ ڈنر‘ میں شریک ہوئے، جو تقریب اُن کی انتخابی مہم میں عطیہ دہندگان کی جانب سے واشنگٹن کے یونین اسٹیشن کے ریلوے ڈپو میں منعقد کی گئی۔

XS
SM
MD
LG