رسائی کے لنکس

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ پیرس ماحولیاتی معاہدے پر "بڑا فیصلہ" آئندہ دو ہفتوں میں سامنے آئے گا۔

اپنی صدارت کے 100 دن مکمل ہونے پر پنسلوینیا کے شہر ہیرسبرگ کے ایک بڑے اسٹیڈیم میں انھوں نے ایک ریلی سے خطاب کیا۔ یہاں دس ہزار لوگوں گنجائش تھی اور یہاں موجود لوگ نے صدر کا استقبال کرتے ہوئے یو ایس اے، یو ایس اے کے نعرے لگائے۔

صدر کی تقریر سے قبل اجتماع میں موجود ایک شخص نے احتجاج کیا، اس پر صدر نے کہا کہ "اسے یہاں سے باہر نکالو" جس پر ریلی کے شرکا نے پھر بھرپور نعرے لگائے۔

جس وقت یہ تقریب جاری تھی اسی وقت واشنگٹن میں وائٹ ہاوس کے نامہ نگاروں کا سالانہ عشائیہ بھی منعقد تھا اور صدر نے اس میں شرکت نہ کرنے پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا اور ریلی کی کوریج کے لیے موجود میڈیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "اس میڈیا کی طرف دیکھیں، انھیں دراصل یہاں ہونا چاہیے تھا۔"

صدر نے چند ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کا نام بھی لیا جنہیں وہ "جھوٹی خبریں" دینے والا تصور کرتے ہیں۔

اپنی صدارت کے پہلے 100 دنوں کی کامیابیوں کو ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ دن "بہت زبردست اور نتیجہ خیز" رہے، جس میں کوئلے کے کان کنوں کو ملازمتوں پر واپس لانا، اسٹیل اور ایلومینیم کے مزدوروں کو تحفظ فراہم کرنا اور "ملازمتوں کے لیے مضر قواعد کا خاتمہ" شامل ہے۔

ریلی کے شریک لوگ
ریلی کے شریک لوگ

"ہم ایک کے بعد ایک وعدے کو پورا کر رہے ہیں اور لوگ واقع خوش ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔"

صدر کا مزید کہنا تھا کہ "ہم نے جو تاریخی پیش رفت کی ہے اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں دیانتداری سے اس صورتحال کے بارے میں بات کرنا ہو گی جو ہمیں اور مجھے ورثے میں ملی۔ گزشتہ انتظامیہ نے ہمیں بہت الجھی ہوئی چیزیں دیں۔"

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ "امریکی خرچے پر عالمی لوٹ کے ایک ٹوٹے نظام" کا حصہ تھا اور انھوں نے عہد کیا کہ وہ آئندہ دو ہفتوں میں پیرس ماحولیاتی معاہدے سے متعلق ایک "بڑا فیصلہ" کریں گے۔

اپنی صدارتی مہم کے دوران وہ تواتر سے یہ دھمکی دیتے رہے کہ وہ اس معاہدے سے علیحدہ ہو جائیں گے یا پھر اس پر دوبارہ مذاکرات کریں گے۔

میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے "امیگریشن کا ایسا نظام بنا دیا ہے جو آپ نے پہلے نہیں دیکھا ہوگا۔"

قبل ازیں ہفتہ کو ہی صدر نے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے جس کے تحت ان کی انتظامیہ ملکی تجارتی معاہدے کا از سر نو جائزہ لے گی۔ اس کا مقصد یہ تعین کرنا ہے کہ آیا 164 ملکی عالمی تجارتی تنظیم میں اس کے تجارتی شراکت دار امریکہ سے برابری کی بنیاد پر برتاو کر رہے ہیں یا نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG