رسائی کے لنکس

logo-print

کیا یہودی عبادت گاہ پر حملہ، پائپ بم واقعات وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہوں گے؟


پٹسبرگ میں قائم یہودی عبادت گاہ جہاں ہفتے کے روز گولیاں چلنے کے واقعہ میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے

اتوار کے روز صدر ٹرمپ نے ایک اور ٹویٹ میں کہا تھا، ’’جعلی خبروں نے ہمارے ملک میں جاری نفرت اور تقسیم کیلئے رپبلکن پارٹی، قدامت پسندوں اور مجھے الزام دینے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران امریکہ میں دو ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہوں نے بہت سے لوگوں کو شدید حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہفتے کے روز امریکی ریاست پینسلوانیا کے شہر پٹس برگ میں ایک 46 سالہ سفید فام شخص رابرٹ بوئرز نے یہود مخالف نعرے لگاتے ہوئے سناگاگ میں داخل ہو کر وہاں یہودی مذہبی تہوار شبت کے سلسلے میں منعقدہ سروس پر گولیاں چلا دیں اور 11 افراد کو ہلاک اور چھ کو زخمی کر دیا۔ ہلاک ہونے والے بیشتر افراد بزرگ اور معذور تھے۔

اس سے پہلے سابق صدر اوباما، سابق نائب صدر جوزف بائیڈن اور سابق سیکٹری آف سٹیٹ ہلری کلنٹن سمیت متعدد شخصیات کو ڈاک کے ذریعے پائپ بم بھجوائے گئے۔ ان پائپ بموں کو راستے میں روک لیا گیا اور یہ مذکورہ شخصیات تک نہ پہنچ پائے۔

ان دونوں واقعات سے ایک طویل بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ اُن کیلئے امریکہ میں ایسا ہونا ناقابل یقین ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں ان دونوں واقعات کی ذمہ داری امریکی میڈیا پر ڈال دی ہے جس نے بقول اُن کے امریکہ میں نفرت اور غصے کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ امریکی معاشرے میں حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی گہری تقسیم کی وجہ صدر ٹرمپ خود ہیں اور یہ سب مخالف سیاست جماعت ڈیموکریٹک پارٹی، تارکین وطن اور اُن کی پالیسیوں کے مخالف دیگر لوگوں کے خلاف اُن کے زہریلے بیانات کا نتیجہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں لکھا، ’’ہمارے ملک میں بہت زیادہ غصہ پایا جاتا ہے اور ایسا بڑی حد تک میڈیا کی غلط اور فراڈ پر مبنی رپورٹنگ کی وجہ سے ہوا ہے۔ جعلی خبریں والا یہ میڈیا عوام کا دشمن ہے اور اسے ہر صورت اپنی مخالفت اور غلط رپورٹنگ بند کرنا ہو گی۔ ایسا کرنے سے غصے کی آگ پر قابو پایا جا سکے گا اور تمام لوگوں کو امن اور ہم آہنگی کے ساتھ اکٹھا کیا جا سکے گا۔ جعلی خبروں کو ہر صورت بند کرنا ہو گا۔‘‘

اس سے کچھ دیر پہلے اتوار کے روز صدر ٹرمپ نے ایک اور ٹویٹ میں کہا تھا، ’’جعلی خبروں نے ہمارے ملک میں جاری نفرت اور تقسیم کیلئے رپبلکن پارٹی، قدامت پسندوں اور مجھے الزام دینے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ دراصل ایسا جعلی اور بے ایمانی پر مبنی رپورٹنگ کے باعث ہوا ہے جس سے اس قدر مسائل پیدا ہوئے ہیں کہ میڈیا والے سوچ بھی نہیں سکتے۔‘‘

امریکی ریڈیو اور ٹیلی ویژن شوز کے متعدد قدامت پسند مبصرین کا کہنا ہے کہ میڈیا کی یہ مہم صدر ٹرمپ کے مخالفین کی طرف سے شروع کی گئی ہے تاکہ 6 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں رپبلکن پارٹی کی اکثریت کو زائل کیا جا سکے۔

تاہم جمعہ کے روز وفاقی تحقیقاتی اہلکاروں نے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو پائپ بم بھیجنے کے الزام میں ٹرمپ کے ایک حامی کو گرفتار کیا۔ جن شخصیات کو یہ پائپ بم بھیجے گئے وہ کسی نہ کسی طور صدر ٹرمپ کے یا تو مخالف رہے ہیں یا مستقبل میں اُن کے مقابلے پر آ سکتے ہیں۔ سابق نائب صدر جو بائیڈن کے بارے میں بعض حلقے اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ 2020 میں ہونے والے آئندہ صدارتی انتخاب میں صدر ٹرمپ کے مخالف اُمیدوار ہو سکتے ہیں جبکہ سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن 2016 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی مخالف اُمیدوار تھیں۔

تحقیقاتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پائپ بم بھیجنے والا مبینہ ملزم ایک وین میں رہتا تھا جس کی کھڑکیوں پر ٹرمپ کے بڑے سائز کے سٹکر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے راہنماؤں کی مسخ شدہ تصاویر آویزاں تھیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے اس انفرادی واقعہ کو خود اُن کے اور رپبلکن پارٹی کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔

پائپ بموں کے واقعہ کے بعد صدر ٹرمپ کے دو بڑے ڈیموکریٹک مخالفین سینیٹ میں اقلیتی پارٹی کے لیڈر سینیٹر چک شومر اور ایوان نمائندگان میں اقلیتی پارٹی کی راہنما نینسی پلوسی نے ان دونوں واقعات کیلئے صدر ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ان دونوں واقعات کی مخالفت میں صدر ٹرمپ کے الفاظ ماضی میں اُن کے بیانات کی نفی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے بار بار تشدد کے واقعات کی مخالفت کرنے سے گریز کیا اور لوگوں میں تقسیم کو ہوا دی۔

تاہم صدر ٹرمپ کی مشیر کیلی این کون وے نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ صدر ٹرمپ کے بیانات سے امریکہ میں کشیدگی اور تقسیم کی فضا قائم ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر امریکہ میں ہونے والے ہر المناک واقعہ کے بعد صدر ٹرمپ کے بیانات کو غور سے دیکھا جائے تو وہ قوم کا اعتماد بڑھانے کا باعث بنے اور یوں صدر ٹرمپ نے ہمیشہ قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس تمام صورت حال کے 6 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کانگریس میں اس وقت رپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ان وسط مدتی انتخابات میں ڈیوکریٹک پارٹی چند اضافی سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی تو کانگریس میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کا توازن یکسر تبدیل ہو کر رہ جائے گا جو یقیناً صدر ٹرمپ اور رپبلکن پارٹی کیلئے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG