رسائی کے لنکس

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے پہلی بجٹ تجاویز جمعرات کو پیش کی جائیں گی


وائٹ ہاؤس جمعرات کو وفاقی حکومت کے لیے بجٹ تجاویز پیش کرے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجوزہ بجٹ تجاویز میں دیگر شعبوں کی طرح غیر ملکی امداد اور ماحولیاتی قواعد و ضوابط کے نفاذ کے ادارے کی امداد کم کرنا شامل ہے۔

اگر یہ بجٹ تجاویز قبول کر لی جاتی ہیں تو اس کے نتیجے میں نئے ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ایک مختلف پالیسی کی سمت کو اختیار کرنا پڑے گا۔

امریکہ کی منیجمینٹ اور بجٹ کے دفتر (ایم بی او) کے ڈائریکٹر مائیک ملوانی نے بدھ کو نامہ نگاروں کو وائٹ ہاؤس میں بتایا کہ "یہ وہ (بجٹ) ہے جس کی توقع ہمارے اتحادیوں کو ہے یہ وہ ہے جس کی توقع ہمارے حریفوں کو ہے۔ یہ وہ ہے جو صدر چاہتے تھے اور میرے خیال میں ہم نے ایک موثر کام کیا ہے۔"

ملوانی کے مطابق ٹرمپ کا پہلا بجٹ جو یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے مالی سال سے متعلق ہے میں دفاع، سرحدوں کی سکیورٹی اور امن و عامہ کے نفاذ کے علاوہ پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں کے انتخاب سے متعلق زیادہ رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ملوانی نے کہا کہ محکمہ خارجہ کے لیے بجٹ میں 28 فیصد کٹوتی کی تجویز دی گئی ہے۔

تاہم اس بجٹ کی منظوری کے لیے سینیٹ میں 60 اراکان کی حمایت ضروری ہے۔

صدر کی جماعت کو 52 ووٹوں کے ساتھ معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ تمام ریپبلکن مجوزہ بجٹ کی حمایت کریں گے اور تقریباً تمام ڈیموکریٹس ممکنہ طور پر اس کی مخالفت کریں گے۔

ایوان نمائندگان کی بجٹ کمیٹی کے رکن ڈیموکریٹ جان یارموتھ نے ’وی او اے‘ نیوز کو بتایا کہ "مصارف کی چند ایسی قسمیں ہیں جو ہماری معیشت کے لیے مرکزی اہمیت کی حامل ہیں ۔۔جیسا کہ تعلیم، ماحولیات، غیر ملکی امداد اور بنیادی ڈھانچہ۔"

اگرچہ محکمہ خارجہ کے مصارف میں ایک چوتھائی سے زیادہ کی کمی ہو سکتی ہے تاہم ملوانی کا اصرار ہے کہ "ہم نے ریاست کے مرکزی سفارتی فرائض کا تحفظ کیا ہے۔"

دوسری طرف انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق اسرائیل کو ہر سال فراہم کی جان والی 3 ارب ڈالر کی غیر ملکی امداد میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔

بدھ کو سامنے آنے والی بجٹ تجاویز کا تعلق صوابدیدی مصارف سے ہے جو کہ ٹیکسوں اور محصولات کے اندازے کا احاطہ نہیں کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG