رسائی کے لنکس

logo-print

جج کے بارے میں ٹرمپ کا بیان، ریپبلیکن رہنماؤں کی نکتہ چینی


اسپیکر پال رائن نے کہا ہے کہ ’’مجھے اُن کے بیان پر افسوس ہے۔ یہ دعویٰ کہ کوئی شخص اپنے نسل کی بنا پر کوئی کام انجام نہیں دے سکتا، ایسا ہے جیسے کسی نصابی کتاب میں نسل کی تشریح کی گئی ہو‘‘

امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر، پال رائن اور سنیٹر لِنڈسی گراہم ری پبلیکن پارٹی کے اُن رہنماؤں میں شامل ہوگئے ہیں جنھوں نے ری پبلیکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار، ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان پر نکتہ چینی کی ہے، جس میں اُنھوں نے ٹرمپ یونیورسٹی کے خلاف اجتماعی مقدمے کے جج کو اُن کے میکسیکو کے ورثے پر اُنھیں ٹوکا ہے۔

منگل کو ٹرمپ کے بیان پر رائے معلوم کرنے پر، رائن کا کہنا تھا کہ ’’مجھے اُن کے بیان پر افسوس ہے۔ یہ دعویٰ کہ کوئی شخص اپنے نسل کی بنا پر کوئی کام انجام نہیں دے سکتا، ایسا ہے جیسے کسی نصابی کتاب میں نسل کی تشریح کی گئی ہو‘‘۔ لیکن، اُنھوں نے گذشتہ ہفتے ٹرمپ کے امیدوار بننے کی توثیق واپس نہیں لی۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، سینیٹر لِنڈسی گراہم، جو ایک سابقہ صدارتی امیدوار ہیں، کہا ہے کہ ٹرمپ کا بیان ’’امریکی اقدار کے منافی ہے جو مکھارتھی سے اب تک کوئی سیاست داں کرسکتا ہے‘‘۔ وہ اُن قدامت پسند سینیٹر کا حوالہ دے رہے تھے جنھوں نے 1950ء کی دہائی میں امریکہ میں کمیونسٹوں کے بارے میں بڑھا چڑھا کر خوف زدہ کرنے کی باتیں کی تھیں۔

گراہم نے یہ بھی مشورہ دیا کہ ری پبلیکنز جنھوں نے ٹرمپ کے امیدوار بننے کی توثیق کی ہے، وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ بقول اُن کے، ’’اگر کوئی بغیر سوچے سمجھے بول سکتا ہے تو شاید یہ مثال کافی ہے‘‘۔

امیدوار کے خلاف نکتہ چینی زور پکڑتی جارہی ہے، جنھوں نے با رہا کہا ہے کہ اُن کے خیال میں ’’اپنے میکسیکو کے ورثے‘‘ کی وجہ سے، امریکی ضلعی جج گونزالو کورئیل مقدمے کا منصفانہ فیصلہ نہیں کر سکتے، جس میں ٹرمپ پر دھاندلی کا الزام ہے۔ کریئل ایک امریکی شہری ہیں، جو امریکہ کی وسط مغربی ریاست، انڈیانا میں پلے بڑھے۔

XS
SM
MD
LG