رسائی کے لنکس

logo-print

یمن: امریکی کارروائی میں القاعدہ کا سرغنہ، قاسم الرمی ہلاک


فائل

امریکی صدر نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کے روز یمن میں کیے گئے امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے ایک اہم رہنما کو ہلاک کیا گیا۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کی انسداد دہشت گردی کی ایک اور کامیاب کارروائی کے دوران قاسم الرمی کو ہلاک کیا، جو جزیرہ نما عربستان میں القاعدہ سے منسلک ایک دہشت گرد دھڑے کے رہنما تھے۔ وہ القاعدہ کے سرغنہ ایمن الظواہری کے معاون بھی تھے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’’رمی کی قیادت میں جزیرہ نما عربستان میں القاعدہ نے یمن میں شہری آبادی کے خلاف گھناؤنا تشدد کیا، اور امریکہ اور ہماری افواج کے خلاف متعدد حملوں کی قیادت کی یا یہ حملے اس کہ شہ پر ہوئے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس کی ہلاکت سے جزیرہ نما عربستان میں القاعدہ اور عالمی القاعدہ کو ضرب کاری لگی ہے، جس کارروائی کے بعد اُن گروہوں کی جانب سے ہماری قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا قلع قمع کرنے میں مدد ملے گی‘‘۔

رمی نے 1990ء میں القاعدہ میں شمولیت اختیار کی، جب وہ افغانستان میں اسامہ بن لادن کے ساتھ کام کیا کرتا تھا، اور اس کا شمار ان دہشت گردوں میں ہوتا تھا جنھوں نے امریکیوں کو ہدف بنانے کی متعدد سازشوں کی منصوبہ بندی کی۔

رمی تیسرا خطرناک ترین دہشت گرد ہے جسے حالیہ مہینوں کے دوران امریکی کارروائیوں میں ہلاک کیا گیا۔ اکتوبر میں، امریکہ نے دولت اسلامیہ کے بانی ابوبکر البغدادی کو ہلاک کیا؛ جب کہ جنوری میں امریکی حملے میں ایران کے اعلیٰ کمانڈر، قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG