رسائی کے لنکس

logo-print

بجٹ سمجھوتے پر صدر ٹرمپ کا اظہارِ ناراضگی


صدر ٹرمپ منگل کو وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس اور ری پبلیکن رہنماؤں کے درمیان بجٹ سے متعلق طے پانے والے عبوری سمجھوتے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

صدر کی جماعت ری پبلیکنز کے رہنماؤں نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ رواں مالی سال کی باقی ماندہ مدت کے لیے سرکاری محکموں کے بجٹ پر ڈیموکریٹس کے ساتھ ایک عبوری سمجھوتے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

گو کہ ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس دونوں نے سمجھوتے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے، لیکن اطلاعات ہیں کہ سمجھوتے کے تحت مجوزہ بجٹ میں میکسیکو کے ساتھ سرحد کی دیوار کی تعمیر کے لیے 7ء5 ارب ڈالر کی وہ رقم نہیں رکھی گئی جس کا صدر تقاضا کر رہے ہیں۔

دونوں جماعتوں کے درمیان سمجھوتے کے نتیجے میں امریکی حکومت کے ایک اور جزوی شٹ ڈاؤن کا خطرہ ٹل سکتا ہے جو بجٹ منظور نہ ہونے کی صورت میں جمعے کی نصف شب کے بعد شروع ہو جاتا۔

لیکن کانگریس کی جانب سے منظور کردہ بجٹ اسی وقت مؤثر ہو سکے گا جب صدر اس پر دستخط کریں گے۔

سمجھوتے کے تحت نئے بجٹ میں دیوار کی تعمیر کے لیے صدر کی مانگی گئی پانچ ارب ڈالر کی رقم شامل نہیں۔
سمجھوتے کے تحت نئے بجٹ میں دیوار کی تعمیر کے لیے صدر کی مانگی گئی پانچ ارب ڈالر کی رقم شامل نہیں۔

گو کہ صدر نے سمجھوتے پر اظہارِ ناپسندیدگی کیا ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایک اور شٹ ڈاؤن کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں دیوار کی تعمیر کے لیے بجٹ سے رقم نہیں ملی تو وہ اس کے حصول کے لیے دیگر ذرائع استعمال کریں گے۔

منگل کو ٹوئٹر پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ری پبلیکن سینیٹر رچرڈ شیلبی نے ڈیموکریٹس کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے پر بریفنگ دی ہے اور وہ اب اس سمجھوتے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ وہ سمجھوتے کا جائزہ لیں گے، لیکن وہ اس سے خوش نہیں ہیں۔

دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مجوزہ سمجھوتے کے تحت تیار کیے جانے والے بجٹ پر بدھ کی شب ووٹنگ ہو سکتی ہے جسے جمعرات یا جمعے کو صدر کو دستخط کے لیے بھیج دیا جائے گا۔

بجٹ میں 30 ستمبر کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کی باقی ماندہ مدت کے لیے ان وفاقی محکموں کو درکار رقم مختص کی جائے گی جن کے دستیاب فنڈز ختم ہو گئے ہیں۔

سینیٹر رچرڈ شیلبی ساتھی قانون سازوں کے ساتھ کیپٹل ہِل میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ شیلبی ری پبلکنز کے اس وفد کا حصہ ہیں جو بجٹ پر ڈیموکریٹس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
سینیٹر رچرڈ شیلبی ساتھی قانون سازوں کے ساتھ کیپٹل ہِل میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ شیلبی ری پبلکنز کے اس وفد کا حصہ ہیں جو بجٹ پر ڈیموکریٹس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔

ری پبلیکن رہنماؤں نے صدر پر زور دیا ہے کہ وہ بجٹ پر دستخط کر دیں تاکہ ایک اور شٹ ڈاؤن سے بچا جا سکے۔

تاہم، بجٹ میں سرحدی دیوار کے لیے فنڈز نہ رکھے جانے کی اطلاعات پر بعض قدامت پسند ری پبلیکن ارکانِ کانگریس نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

ڈیموکریٹس نے بجٹ میں دیوار کی بجائے سرحدوں پر سیکورٹی سخت کرنے کے لیے دیگر اقدامات کے لیے فنڈز رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جس پر خود ڈیموکریٹس کے بعض لبرل ارکان ناراض ہو سکتے ہیں۔

اگر ایسا ہوا تو کانگریس میں بجٹ کی منظوری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ لیکن دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس کا امکان کم ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے بجٹ میں سرحدوں پر باڑ لگانے کے لیے 37ء1 ارب ڈالر کی اتنی ہی رقم رکھی گئی ہے جتنی گزشتہ سال کے بجٹ میں رکھی گئی تھی۔

امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر نصب آہنی باڑ جسے صدر کنکریٹ اور اسٹیل کی دیوار میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر نصب آہنی باڑ جسے صدر کنکریٹ اور اسٹیل کی دیوار میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کو دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی مخالفت کرتے آئے ہیں جو صدر ٹرمپ کا ایک اہم انتخابی وعدہ ہے۔

دیوار کی تعمیر کے لیے بجٹ میں فنڈز مختص نہ کرنے پر امریکی حکومت 22 دسمبر کو جزوی شٹ ڈاؤن ہو گئی تھی جس کے باعث وفاقی حکومت کے ایک چوتھائی محکمے بند اور ان کی سرگرمیاں جزوی معطل ہو گئی تھیں۔

یہ شٹ ڈاؤن امریکی تاریخ کا طویل ترین ثابت ہوا تھا جو 35 روز بعد ایک عبوری معاہدے کے نتیجے میں ختم ہوا تھا۔ معاہدے کے تحت ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز نے 15 فروری سے پہلے پہلے نئے بجٹ کی منظوری پر اتفاق کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG