رسائی کے لنکس

امریکہ دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے 11 ستمبر 2001 کے بعد مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کے لیے پائلٹ کے بغیر اڑنے والے میزائل سے لیس ڈرون طیاروں کا استعمال شروع کیا تھا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینٹرل انٹیلی جینس ایجنسی یعنی سی آئی اے کو مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرون حملے کرنے کے نئے اختیارات دے دیے ہیں۔

پیر کے روز وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی عہدے داروں کے حوالے سے بتایا گیا ہےکہ یہ اقدام سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ کی جانب سے سی آئی اے کے نیم فوجی کردار کو محدود کرنے کی پالیسی میں تبدیلی کی نشاہدی کرتا ہے۔

وہائٹ ہاؤس، محکمہ دفاع اور سی آئی اے نے فوری طور پر اس خبرپر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

امریکہ دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے 11 ستمبر 2001 کے بعد مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کے لیے پائلٹ کے بغیر اڑنے والے میزائل سے لیس ڈرون طیاروں کا استعمال شروع کیا تھا۔

جب امریکہ کی دیکھا دیکھی کئی دوسرے ملکوں نے بھی مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف اپنےڈرون پروگرام شروع کیے تو اوباما انتظامیہ کو خواہش تھی کہ اس سلسلے میں بین الاقوامی گائیڈ لائنز طے کی جائیں۔

بیرون ملک اہداف کے خلاف ڈرون طیاروں کا استعمال سابق صدر جارج بش نے شروع کیا تھا اور صدر اوباما کے دور میں اس کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔

ڈرون کے ذریعے مشتبہ دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے پروگرام کے ناقدین کہتے ہیں کہ ان حملوں نے ہلاک کیے جانے والے عسکریت پسندوں کے مقابلے میں زیادہ عسکریت پسند پیدا کیے۔

وہ جہادی گروپس اوردنیابھر میں عسکریت پسندوں کے حملوں کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ڈورن حملوں نے اس مسئلے کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔

جولائی میں امریکہ حکومت نے ایسے ملکوں میں فضائی حملوں کے دوران نادانستگی میں 116عام شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا تھا جہاں وہ جنگ نہیں لڑ رہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG